وزیراعظم بتائیں لاک ڈاؤن کس ایلیٹ نے کروایا؟
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے مرکز میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران میں وفاقی حکومت صوبوں کا ساتھ نہیں دے رہی۔
جمعے کو کراچی میں پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم دن میں ایک بیان دیتے ہیں اور رات کو کچھ اور کہتے ہیں۔
بلاول کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بتائیں کہ لاک ڈاؤن کس ایلیٹ نے کروایا؟
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کیا عمران خان خود کو صرف اسلام آباد کا وزیراعظم سمجھتے ہیں؟
انہوں نے عمران خان کو مخاطب کر کے کہا ’آپ پورے ملک کے وزیراعظم ہو، آپ کے ذمے جو کام ہے وہ کریں۔ وزیراعظم نے اگر کام نہیں کرنا تو استعفیٰ دے کر گھر جائیں اور کسی اور کو یہ کام سونپ دیں۔’
سندھ کا ذکر کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ’جو صوبہ سب سے زیادہ اقدامات کر رہا ہے اس کا ساتھ دینے کے بجائے اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ابھی تک وفاق نے ٹیسٹنگ، صحت اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے سندھ کو ایک روپیہ تک نہیں دیا ہے، 90 فیصد کام صوبہ اپنے وسائل سے کر رہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ وفاق کے پاس کرنے کو ہے کیا، زیادہ خرچہ دفاع کا ہے اور قرضوں کی ادائیگی کا۔ ’آپ نے اس وقت نہ کوئی جنگ لڑنی ہے اور نہ ہی قرضے لوٹانے ہیں اس لیے کورونا کے بحران پر دھیان دیں۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وفاق نے صوبوں کی تذلیل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب صوبے وفاق سے مدد کے لیے کہتے ہیں تو اس کا مطلب تنقید یا گالی نہیں ہوتا۔ ‘یہ ایک ایسا المیہ ہے کہ کوئی صوبہ اکیلا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، وفاق کو ساتھ دینا پڑے گا۔‘
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کیا کوئی وزیراعظم کو سمجھائے گا کہ وہ اس وقت کنٹینر پر نہیں ہیں۔ ’کنٹینر سے اتریں اور اپنا کام کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ ‘وفاقی حکومت نے بلوچستان کی حکومت کو مایوس کیا، سارا بوجھ اس پر ڈالا اور کوئی سہولت نہیں دی۔ ایسا ہی پنجاب کے ساتھ کیا گیا، تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے والوں کا خیال نہیں رکھا گیا اور وہ وائرس پھیلانے کا سبب بن گئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جو صوبہ اور لوگ وسائل کے مطابق صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، دن رات اسی کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس بحران کیفیت میں وفاق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ ’دن رات مزدوروں کا ذکر کرنے والوں نے مزدوروں کے لیے کچھ نہیں کیا‘
انہوں نے کہا کہ اس المیے کے دنوں میں وزیراعظم ایک قومی حکمت عملی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ’حکومت نے زرعی پیکیج دیا جائے گا لیکن ابھی تک نہیں دیا گیا‘
بلاول کا کہنا تھا کہ صوبے کو دو محاذوں پر لڑنا ہے ایک بیماری سے اور دوسرا معاشی صورت حال سے لیکن وفاقی حکومت ٹیسٹنگ، صحت اور قرنطینہ کی سہولتوں میں کوئی مدد نہیں کر رہی۔

