پٹرول، ڈیزل کے فی لٹر پر کتنا ٹیکس؟
پاکستان میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر خاموشی سے ٹیکس اور ڈیوٹی بڑھا دی ہے۔ پٹرول کے فی لیٹر پر 45 روپے 85 پیسے ٹیکس، لیوی اور ڈیوٹیز عائد کی گئی ہیں۔
جہانزیب عباسی
سرکاری دستاویز میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے چشم کشا انکشافات کیے گئے ہیں۔
ڈیزل کے فی لیٹر پر 49 روپے 11 پیسے ٹیکس,لیوی اور ڈیوٹیز عائد کردی گئی، ڈیزل کی سپلائی کاسٹ 30 روپے 99 پیسے, قیمت 80 روپے 10 پیسے مقرر کی گئی ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق پیٹرول کے فی لیٹر پر 45 روپے 85 پیسے ٹیکس, لیوی، ڈیوٹیز عائد کردی گئی، پیٹرول کی فی لیٹر سپلائی کاسٹ 35.73 روپے, قیمت 81.58روپے مقرر کی گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پیٹرولیم لیوی میں 14 روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 15.49روپے سے بڑھاکر 30 روپے کردی گئی، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر 11 روپے 64 پیسے سیلز ٹیکس الگ سے عائد ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی سپلائی کاسٹ 30 روپے 99 پیسے فی لیٹر ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر 3 روپے 12 پیسے ڈیلر مارجن عائد کیا گیا.
دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر او ایم سی مارجن 2 روپے 81 پیسے وصول کیا جارہا ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر آئی ایف ای ایم 1 روپے 54 پیسے وصول کیا جارہا ہے، جبکہ پیٹرول کے فی لیٹر پر پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے 60 پیسے کا اضافہ کردیا گیا، پیٹرول پر لیوی 17.16 روپے سے بڑھاکر 23.76 روپے کردی گئی، پیٹرول کے فی لیٹر پر 11 روپے 85 پیسے سیلز ٹیکس الگ سے عائد کر دیا گیا،پیٹرول کی فی لیٹر سپلائی کاسٹ 35 روپے 73 پیسے بنتی ہے،پیٹرول کے فی لیٹر پر 3 روپے 70 پیسے ڈیلر مارجن وصول کیا جارہا ہے، پیٹرول پر او ایم سی مارجن 2 روپے 81 پیسے وصول کیا جارہا ہے، پیٹرول کے فی لیٹر پر آئی ایف ای ایم 3 روپے 73 پیسے وصول کیا جارہا ہے.
حکومت نے مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی بڑھاکر کر 18روپے 2 پیسے کردی. لائٹ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی بڑھاکر 11 روپے 18 پیسے کردی گئی.ادھر عالمی مارکیٹ کے حوالے پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر زرائع کا کہنا ہے کہ فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 60 روپے تک کی کمی ہونی چاہیے تھی.

