سویڈن میں لاپتہ پاکستانی صحافی کی نعش مل گئی
سویڈن میں دو ماہ قبل لاپتہ ہونے والے پاکستانی صحافی ساجد حسین کی لاش مل گئی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سویڈین میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے ساجدحسین کی لاش اُپسالہ شہر کے باہر دریائے فائرس کے کنارے ملی ہے۔
پولیس کے مطابق ساجد حسین مارچ کی دو تاریخ کو لاپتہ ہوئے تھے۔
صحافی ساجد حسین بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے سویڈن میں سیاسی پناہ لیے ہوئے تھے۔
ان کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف لکھنے پر ماضی میں دھمکیاں ملی تھیں تاہم سویڈن میں حکام نے کہا ہے کہ ان کی موت کی وجہ تشدد نہیں ہے۔
ساجد حسین آئن لائن پاکستانی نیوز ویب سائٹ بلوچستان ٹائمز کے بھی بانی ایڈیٹر تھے۔
ساجد حسین کو آخری مرتبہ اُپسالہ میں ٹرین میں بیٹھتے دیکھا گیا تھا۔
ساجد حسین 2017 میں سویڈن آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔
سویڈن پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ساجد حسین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ان خدشات کو رد کیا ہے کہ ان کی گمشدگی اور موت کا آپس میں کوئی تعلق ہے تاہم پولیس ترجمان نے کہا کہ فی الوقت ان کی موت میں مجرمانہ فعل کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔
سویڈن پولیس کے مطابق ساجد حسین کی موت حادثہ یا خودکشی کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔
صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹر ود آؤٹ بارڈرز کے سویڈن میں سربراہ ایرک ہلکجیر نے کہا ہے کہ جب تک ساجد حسین کی موت کی وجوہات میں سے جرم کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاتا تب تک اس بات کا امکان موجود ہے کہ ان کی موت کا سبب ان کا کام بھی ہو سکتا ہے۔

