عالمی یوم صحافت: پاکستانی میڈیا کتنا آزاد؟
وقار حیدر
دنیا بھر میں آج صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اور اس دوران پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی بحث جاری ہے۔ یہ بحث حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم کی موجودگی میں مولانا طارق جمیل کے میڈیا کو جھوٹا کہنے سے شروع ہوئی۔
پاکستان کے عوام کی اکثریت سارا دن ٹی وی یا نیوز چینلز دیکھتی ہے اور گزشتہ دس برس میں لوگوں کو بہت سی چیزوں کی سمجھ آئی ہے۔ اسی وجہ سے بعض افراد میڈیا کی خبروں یا تبصروں کو گمراہ کن، غلط ، بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار بھی دیتے ہیں۔
تاہم میڈیا کے اندر کیا ہوتا ہے؟ یا کیا ہو رہا ہے؟ خبر کیسے بنتی یا بنائی جاتی ہے، یہ ہر کوئی نہیں جانتا۔ ایک سینئر صحافی کہتے تھے کہ میڈیا ایک نشہ ہے جس کو ایک بار لگ جاتا ہے اس کو کہیں کا نہیں چھوڑتا، یہ وہ میڈیا سے منسلک لوگوں کے بارے میں کہتے تھے۔
آپ کو میڈیا کی اندرونی کہانی سناتے ہیں۔
پاکستانی میڈیا کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کو کسی ڈگری وگری کی ضرورت نہیں جس کا دل چاہے جس بھی فیلڈ سے ہو جب چاہے صحافی بن جائے۔ اور پھر جو منہ میں آتا ہے بول دیتا ہے اور اس کو خبر کہنا شروع کر دیتا ہے۔ تھوڑا مشہور ہو جائے تو خبر پر تجزیہ بھی شروع کر دیتا ہے۔
نیا پاکستان میڈیا کیلئے انتہائی مضر ثابت ہوا، میڈیا انڈسٹری سے تقریبا 30 فیصد تک ورکز کو فارغ کیا جا چکا ہے، باقی ماندہ کی تنخواہیں کاٹی جا چکی ہیں اور دیگر سہولیات بھی چھین لی گئی ہیں۔
آئے روز کسی نہ کسی چینل سے ورکزکو نکال باہر کیا جا رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ، نہ کوئی احتجاج کرنے والا ہے۔ رہی بات خبر کی تو ان کی اپنی خبر چلانے والا کوئی نہیں ہے۔
مالکان کو مفادات پر زد کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہے۔ عوام میڈیا کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور اسی طرح حکومت ، ادارے، اپوزیشن سب ہی میڈیا سے نالاں ہیں۔
میڈیا مالکان نے تو رپورٹرز اور صحافیوں کے ساتھ پٹرول والا حال کر رکھا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو ہر چیز مہنگی لیکن جب کم ہوتی ہے تو کچھ بھی سستا نہیں کیا جاتا، میڈیا میں بھی جب حالات زیادہ خراب ہوتے ہیں تو تنخواہوں میں کٹوتی کر لی جاتی ہے اور دیگر سہولیات واپس لے لی جاتی ہیں لیکن جب حالات بہتر ہو جاتے ہیں تو کچھ نہیں ہوتا۔
موجودہ صورتحال میں میڈیا کتنا آزاد ہے۔ میڈیا سے منسلک بعض افراد سے ہی جانتے ہیں۔
نجی نیوز چنیل کی اسائمنٹ ایڈیٹر سدرہ سعید کہتی ہیں کہ میڈیا صحافت سے زیادہ بزنس بن چکا ہے۔ مالکان یا سینئر پوسٹ پر بیٹھے بعض منافق افراد اپنے مفادات کی خبر چلواتے یا رکواتے ہیں پھر چاہے وہ جھوٹ کو سکرین پیش کریں یا پھر ثبوت ہوتے ہوئے بھی سچ کو سامنے آنے نہ دیں۔
نجی نیوز چینل کے رپورٹر نورالامین دانش کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے پاکستان میں میڈیا مالکان کے مفادات کو آزادی صحافت سے جوڑا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے سینسر شپ کی بدترین مثال قائم کی ہے تاہم بہت سی پابندیاں ایسی ہیں جو کہ میڈیا نے خود سے اپنے اوپر لاگو کرا لی ہیں۔
نجی چینل کے رپورٹر عدیل سرفراز نے کہا میری رائے میں سوال میڈیا کی آزادی نہیں بلکہ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے اداروں کی آزادی کا ہے۔ کیونکہ جب تک ان اداروں پر سول حکومت کا کنٹرول رہتا ہے میڈیا کو مشکلات درپیش ضرور ہوتی ہیں تاہم آزادی اظہار رائے سلب نہیں ہوتا۔ ہم نے دیکھا ہے جب جب ملکی سلامتی کے اداروں نے (وسیع تر ملکی مفاد) میں خبر اور سچ کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے تب تب میڈیا کو آزادی سے کام کرنے میں دشواریاں ضرور پیش آئی ہیں۔
صحافی شنزہ نواز نے کہا کہ کون کہتا ہے کہ میڈیا آزاد ہے؟ میڈیا میں کام کرنے والے کو پتہ ہے کہ بہت سی خبریں کہہ کر چلوائی جاتی ہیں، یا ادارے کی پالیسی کے مطابق چلتی ہیں، جو مالکان بناتے ہیں، وہ بھی کسی نہ کسی ادارے یا پارٹی کے ساتھ منسلک ہو سکتے ہیں، تو خبر وہ چلائی جاتی ہے جس کی ڈیمانڈ ہو، اور رہی بات اینکرز کی تو ان کے اپنے مفادات، اپنی دوستیاں، مراعات اور لفافے ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ دیگر اداروں کی طرح میڈیا میں بھی بہت سے ایسے افراد ہیں جو ٹیلنٹ اور کام سے زیادہ چاپلوسی کی بنیاد پر ملازمتیں دیتے ہیں اور ترقی کی منزل طے کرتے ہہں، بہت سے قابل افراد انتھک محنت اور پورا دن دفتری اوقات سے زیادہ دینے کے باوجود نہ ترقی کرپاتے ہیں اور نہ اچھی تنخواہ حاصل کر سکتے ہیں اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے باسز یا مینجرز کو جھوٹی تعریفوں اور سیاست کر کے خوش نہیں رکھ سکتے۔

