پبلک ٹرانسپورٹ اور سکول بند، باقی سب کھل گیا
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 9 مئی سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور سکول کھولنے پر صوبوں کی طرف سے اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
عمران خان نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو کھولا جاتا، کیونکہ یہ غریبوں کے لیے ہے۔ وزیراعظم کے بقول امیر لوگ تو لاک ڈاؤن میں بھی اپنی گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر سے کہا ہے کہ وہ صوبوں کے ساتھ اس حوالے سے رابطے میں رہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کو لاک ڈاؤن کے پہلے ہی روز اس بات کا خوف تھا کہ سب کچھ بند ہونے سے دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑا امدادی پیکج کے تحت غریبوں میں نقد رقم تقسیم کرنے کا پروگرام دیا۔
عمران خان نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے ملک میں وبا بلند شرح تک نہیں گئی جس کا خدشہ تھا۔ ’خوف تھا کہ کہیں بیماری اس حد تک نہ چلی جائے کہ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ جائے۔‘
وزیراعظم نے خبردار کیا کہ لاک ڈاؤن کھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔ ’کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کب بیماری ختم ہو گی یا بلند شرح پر چلی جائے اس لیے سب کو احتیاط کرنا ہو گی۔“
عمران خان نے کہا کہ جرمنی میں پاکستان کی نسبت صورت حال زیادہ خراب ہے لیکن انہوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان کیا۔

