یورپ میں لاک ڈاؤن ختم، چین کا شہر بند
چین کے شمال مشرقی شہر جلین میں کورونا کے کیسز سامنے آنے کے بعد جزوی طور پر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے اور 40 لاکھ آبادی والے اس شہر میں داخل ہونے یا نکلنے پر پابندی عائد کر کے ٹرانسپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب یورپی ملکوں میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن کو ختم کیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکہ میں ماہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کو لاک ڈاؤن ختم کرنے میں جلد بازی کے منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن اور وبائی امراض کے قومی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے میں جلدی کی گئی تو وبا اس حد تک پھیل جائے گی کہ اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔
بدھ کو چینی حکام نے جلین شہر کے تمام سنیما گھروں، انڈور جم، انٹرنیٹ کیفے اور تفریحی مقامات کو فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی اور تمام میڈیکل سٹورز سے پوچھا ہے کہ وہ بخار اور اینٹی وائرل ادویات کی فروخت کے اعداد و شمار فراہم کریں۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ شہر سے باہر جانا چاہتے ہیں تو اُنہیں گذشتہ 48 گھنٹے کے دوران کرائے گئے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ جمع کرانا ہو گی جس کا منفی ہونا ضروری ہے۔

