کالم

یہ ہے اس تبدیلی کا شاخسانہ

مئی 17, 2020 4 min

یہ ہے اس تبدیلی کا شاخسانہ

Reading Time: 4 minutes

تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.08 فیصد پہنچ گیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اپنی ”شاندارمعاشی پالیسی“ کی بدولت اسے منفی 1.05 پر گرا کر دم لیا۔ ڈالر تب سو روپے پر باندھ دیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت کے آتے ہی ناتجربہ کاری اور بے بصیرتی کے سبب ڈالر کو بال و پر فراہم کئے گئےاور وہ 160 سے اُوپر پرواز کر بیٹھا۔

گیس کا بل جو چند سو روپے سے آگے نہیں بڑھتا تھا اس میں %225کا اضافہ ہوا اور اب گھریلو استعمال کی گیس بھی ایک لگژری کی صورت اختیار کر گئی جس نے لوگوں کی چیخیں نکال دیں۔

مہنگائی کی شرح %3 سے %14پر پہنچ کر لاکھوں لوگوں کو خط غربت سے نیچے دھکیل گئی۔

سٹیٹ بینک نے معاشی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال غربت کی شرح %۱۱ سے بھی زیادہ بڑھ جائے گی یہ انتہائی الارمنگ صورتحال ھے لیکن حکومت پر ”سانوں کی“ والی غنودگی تاحال طاری ہے۔

گزشتہ 70 برس میں پاکستان نے بحیثیت مجموعی 24 ٹریلین ڈالر کا قرضہ لیا تھا لیکن عمران خان کی حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں 12 ہزار 941 ارب (ستر سال کے مجموعی قرضے کا تقریبا آدھا) قرضہ لے کر صرف 20 ماہ میں نو ٹریلین کا مزید قرضہ چڑھا دیا۔

وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ کورونا معاملے پر غریب عوام میں 1200 ارب بانٹ دئیے گئے لیکن مشیر خزانہ آئی ایم ایف کو لکھ کر بتا رہے ہیں کہ صرف پانچ سو ارب دیے گئے ۔ جب اعلی ترین سطح پر اقتصادی کوآرڈینیشن کی صورتحال یہ ہو تو پھر اس سے وہی معیشت برآمد ہوگی جو ہمارے سامنے ہے۔

تبدیلی کا ذائقہ مزید چکھ لیتے ہیں ، اور آگے بڑھتے ہیں!

پانچ ہزار 825 ارب کا تاریخی گھپلا گلی کوچوں میں زیر بحث ہے۔

رزاق داؤد، خسرو بختیار اور ندیم بابر کے نام اور کام سے اس ملک کا بچہ بچہ واقف ہو چکا ہے لیکن بیانیہ تاحال وہی ہے کہ میرا ہر مخالف چور ہے۔

چینی اور آٹے پر سو ارب سے زیادہ کرپشن کا معاملہ سامنے آیا اور غریب عوام کو دن دھاڑے لوٹ لیا گیا ۔

رپورٹ سامنے پڑی ہے کہ نو ملز مالکان کو ادائیگیاں کی گئیں ۔ دس بڑی ٹرانزیکشنز ہوئیں جن میں سے چھ فرمز سرے سے ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہی نہیں لیکن اس کے باوجود بھی کوئی جہانگیر ترین یا خسرو بختیار کو ھاتھ تو لگا کر دیکھے ، البتہ مخالف جو بھی سامنے آئے، اسے پکڑ بھی لیں اور جکڑ بھی لیں، شاہد خاقان عباسی سے میر شکیل الرحمٰن تک ، اور سیاست سے صحافت تک اختلاف کے لیے طوق و دار ہی کا انتخاب ہے۔

یہ حکم نامہ صرف مخالفین یا باالفاظ دیگر عوامی تائید والے لیکن ریاستی طاقت سے محروم ہر فرد کے لیے ہے اور جمہوریت کی گردن نیب نے دبوچ لی ہے۔

احتساب کا عمل اُوپر سے شروع کرنا تھا لیکن جھونپڑیاں صرف غریبوں کی زمین بوس ہوئیں اور اب ان پر بھوک اور افلاس کا بے رحم چھڑکاؤ بھی جاری ہے ۔

ریاست مدینہ مالم جبہ، بی آر ٹی ، بلین ٹری سونامی ، آٹا ، چینی سکینڈل، میڈیسن گھپلے اور ٹائیگر فورس پر بھی کہاں آکر رُکی بلکہ تازہ ترین لاھور کے ایک ھسپتال میں نوے کروڑ روپوں کی چارپائیاں گویا ایک چارپائی نو لاکھ کی پڑی ۔

حضرت عمر کے کرتے کی مثال دینے والے وزیر اسد عمر ببانگ دھل اعلان کر رھے ہیں کہ سبسڈی سیکینڈل کے معاملے پر وزیراعظم کسی کو بھی جوابدہ نہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کر کے احساس پروگرام رکھ دیاگیا لیکن کارکردگی ملاحظہ ہو کہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو امداد کے لئے چنا گیا لیکن ابھی تک صرف 32 لاکھ لوگوں کو ادائیگی ہوئی ہے لیکن حساب کتاب دینے سے انکار بھی ہے اور 78 لاکھ لوگوں کو ادائیگی بھی ناممکن دکھائی دیتی ہیں حالانکہ یہ رقم پہلے ایک کلک سے بینکوں سے مل جایا کرتی تھی۔

اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مالی خود مختاری مل گئی تھی لیکن لگتا ہے کے اس کی چیڑ پھاڑ بھی ہونے کو ہے اور حسب توقع قصائی کا کردار نیب ہی ادا کرے گا۔

آئین کے مطابق سال میں 130 دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا ضروری ہے لیکن ابھی تک صرف 77 دن اجلاس منعقد ہوا ہے۔

اس سے پارلیمان کی وقعت اور جمہوری اقدار کا اندازہ لگایا جائے ۔

کبھی قوم سے صرف سچ بولنے والے نے فردوس عاشق اعوان اور شہباز گل جیسے ”حق پرستوں“ کو اپنا ترجمان بنا کر اپنا وعدہ پورا کیا اور کذب بیانی کے دریا ٹھاٹھیں مارتے ہوئے رواں دواں ہیں۔

انتظامی مہارت ساہیوال واقعے سے تفتان بارڈر کھولنے تک لمحہ لمحہ اور قدم قدم پر نہ صرف ہمارا منہ چڑا رہا ہے بلکہ ھمارے اعتماد کو بھی لڑ کھڑا رہا ہے۔

کورونا وائرس پورے ملک کو لپیٹ میں لے چکا ہے لیکن ہماری پالیسی لاک ڈاؤن ہوگا، لاک ڈاؤن نہیں ہوگا سے ابھی تک آگے نہیں بڑھی گویا فنا و بقاء کا سنجیدہ مسئلہ بھی غیر ذمہ داری اور لا پرواہی کا شکار ہے۔

معاشی پالیسی بھیک اور کشکول کے فلسفے پر کھڑی ھے اور عوام کا جم غفیر خط غربت کے نیچے دبتا چلا جا رھا ھے۔

یہ ہے وہ تبدیلی جس کے لیے ایک اودھم مچایا گیا۔

یہ ہے اس بیانئے کا غبار جس کے لئے سیاست اور صحافت پر حرص وخوف پیہم برسایا گیا ہے۔ یہ ھے وہ عوامی لہر جس نے عوام کی زندگی اجیرن کردی۔ یہ ھے وہ مسیحائی جس نے ان در و بام سے زندگی چھین لی۔ یہ ہے ان خوابوں کی دلآزار تعبیریں جو بے بصیرت رتوں میں آنکھوں میں اُترے تھے۔

اور یہ ہے وہ انتظام جو جج ارشد ملک کے فیصلے اور آر ٹی ایس سسٹم کی بندش جیسی بنیادوں پر کھڑا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان ”بنیادوں“ کی بوسیدگی پر سوالات کی تیز بارشیں مسلسل برسنے لگی ہیں۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے