متفرق خبریں

دکانیں کھولنے کا حکم صرف عید کے لیے

مئی 19, 2020

دکانیں کھولنے کا حکم صرف عید کے لیے

پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ہفتہ اتوار کو دکانیں کھولنے کا حکم صرف عید تک کے لیے دیا ہے، پورے پاکستان پر نظر ہے۔ صومالیہ بننے جا رہے ہیں لیکن بادشاہوں کی طرح رہ رہے ہیں۔

جسٹس سردار طارق نے کہا کہ عدالت نے حکم صرف سندھ کی حد تک دیا تھا، باقی ملک میں شاپنگ مالز کھل رہے تو سندھ کے ساتھ تعصب نہیں ہونا چاہیے، مالز کھولنے کا الزام عدالت پر نہ لگائیں۔


منگل کو سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال میں ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ “بیوٹی سیلون اور حجام کی دکانیں ہماری وجہ سے ہی نہیں کھل رہیں۔ آپ کے انسپکٹر پیسے لے کر اجازت دے رہے ہیں، عدالت نے سندھ حکومت کو کچھ نہیں کہا، سندھ حکومت نے تمام سرکاری دفاتر کھول دیے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ بڑی کرپشن کا ادارہ سب رجسٹرار کا آفس ہے جو آپ نے کھول دیا ہے، کرپشن کی تمام میٹنگ سب رجسٹرار آفس میں ہوتی ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہمارے یہاں جو سامان منگوایا جاتا ہے اس میں معیار نہیں دیکھا جاتا ہے، پاکستان میں ہر کمپنی اور ادارہ بند ہو رہا ہے، صومالیہ بننے جارہے ہیں لیکن بادشاہوں کی طرح رہ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کی صورتحال میں پیسوں کو ترجیح دینے پر ناراضگی کا بھی اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا پاکستان کی معیشت کا شمار افغانستان، یمن، صومالیہ سے کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر چیز پیسہ نہیں ہوتی، پیسوں کیلئے کھیل نہ کھیلیں، پیسہ اہم نہیں ہے بلکہ انسان اہم ہی،پاکستان کی معیشت کا موازنہ افغانستان، صومالیہ، یمن کے ساتھ کیا جاتا ہے،پاکستان غریب سے غریب ترین قوم ہے،اس طرف کسی کو دھیان نہیں.

سپریم کورٹ نے سرکاری کرونا ٹیسٹ نتیجے کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے۔

چیف جسٹس نے کہا عمومی تاثر ہے کہ وسائل غیر متعلقہ افراد کے ہاتھوں میں ہے، کرونا مرض کا شکار مریض غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتا ہے، مریض کو بھی حتمی طور پر یہ علم نہیں ہوتا وہ کرونا وائرس کا شکار ہے یا نہیں.

چیف جسٹس نے مزید کہا لاہور میں چار افراد کا سرکاری کرونا ٹیسٹ مثبت آیا،پرائیویٹ لیب سے کرونا ٹیسٹ منفی بتایا گیا، لواحقین چلاتے رہتے ہیں انکے مریض کو کرونا مرض لاحق نہیں ہے،پرائیویٹ ہسپتال والوں کرونا مریضوں سے لاکھوں روپے لیتے ہیں، کرونا وائرس کے شکار مریض کو دنیا جہان کی دوائیاں دے دی جاتی ہیں، ایک کلپ دیکھا ایک شخص رو رہا تھا اس کی بیوی کو کرونا نہیں ہے، ایسی صورتحال کا کیا کریں۔

مقدمے کی سماعت آٹھ جون تک ملتوی کر دی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے