طیارے کے حادثے کی تحقیقات میں نیا موڑ
کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ سجاد گل کے والد نے ایئر فورس سے تعلق رکھنے والی تحقیقاتی ٹیم کے ارکان پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تحقیقات کرنے والے پیشہ ور نہیں اور ان کو گندی نالی کے کیڑے قرار دیا۔
سجاد گل کے والد نے کہا کہ تحقیقات شروع ہونے سے قبل ہی ٹیم نے میڈیا کو خبریں لیک کروا کے ان کے بیٹے پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی۔
دوسری جانب پائلٹس کی عالمی تنظیم نے کراچی میں پاکستان کی قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم میں اپنے نمائندے کی شرکت کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر طیارہ بنانے والی ایئربس کی تحقیقاتی ٹیم بھی امریکہ سے کراچی پہنچ گئی ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن ایئرلائن پائلٹ ایسوسی ایشن کے صدر نے باقاعدہ طور پر تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کو خط لکھا ہے۔
کراچی ایئرپورٹ کے پاس لینڈنگ کے دوران تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارہ کی تحقیات کے لیے پائلٹ کی عالمی تنظیم ایئر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن کے صدر کیپٹن جیک نیٹسکر نے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایئرکموڈور محدعثمان غنی کو خط لکھا ہے۔
خط میں تنظیم کے اغراض ومقاصد کا حوالہ دیکر اپنے نمائندہ کو تحقیقات میں بطور مشیر شامل ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں تحریر کیا گیا کہ انٹرنیشنل فیڈریشن ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن دنیا بھر میں ایوی ایشن کی محفوظ سرگرمیوں کے لئے کام کرتی ہے،تنظیم کےایکسپرٹ ماضی میں بھی حادثات کی انکوائریز کا حصہ رہ چکے ہیں،
انٹرنیشنل فیڈریشن ایئرلائن پائلٹ ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے بجھوائے گئے خط میں تحریر کیا گیا کہ طیارہ حادثات کی تحقیقات کی روشنی میں مستقبل میں ایسے واقعات کو مدنظر رکھ سفر محفوظ بنانے کے لئے سفارشات مرتب کی جائیں گی،خط کی نقول انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن اے پی اے سی کے ریجنل ڈائریکٹر ارون مشرا سمیت سی ٹی اے سی او ایس وی اے پی کے ٹن میری زونکیکی کو بھی بجھوائی گئیں

