کورونا کو مارنے والے ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر عزیر سرویا
وارڈ میں سینیئر ریزیڈینٹ ہونے کی وجہ سے ڈیوٹی روسٹر میرے ذمے ہوتا ہے۔ روز کسی نہ کسی کا فون آتا ہے کہ علامات ظاہر ہو رہی ہیں، گھر میں آئیسولیٹ ہو جاؤں یا آتا/آتی رہوں؟
روز کیمو لگوانے والے مریض اور ان کے اٹینڈینٹ وارڈ میں ہم دیکھتے ہیں، آدھے ماسک پہنے ہوئے آدھے اس کے بغیر۔ جنہوں نے پہنا ہوتا ہے وہ بھی ناک سے نیچے (اس کا اتنا ہی فائدہ ہے جتنا زیر جامہ گھٹنوں پر پہن کر ستر ڈھانپنے کا)۔
ہمارے لوگوں میں پرسنل سپیس space کا کوئی کانسیپٹ موجود نہیں۔ کہیں درد ہو تو اس کا بتانے کے لیے ڈاکٹر کے جسم پر اس جگہ ہاتھ لگا کر بتاتے ہیں کہ اس جگہ درد ہے۔ بیٹھتے وقت کرسی بالکل ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ بات کرتے ہوئے منہ اتنا قریب کر لیتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے ابھی بوسہ لے لیں گے۔
میں نے ہر کسی کو کہنا چھوڑ دیا ہے کہ میرے ساتھ جڑ کر مت بیٹھیں/کھڑے ہوں۔ ماسک اوپر کریں۔ ماسک لگائیں وغیرہ۔ مریضوں کو کہہ دیتا ہوں بس، کیونکہ اس حد تک فرض ہے بتانا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے بتاتے ہوئے بھی کہ فائدہ کوئی نہیں۔ بس کوئی ساتھ لگ کر بیٹھنے لگے یا مونہہ کے قریب ہو کر بات کرنے لگے تو ذرا سی کھانسی کر کے کہتا ہوں کہ ذرا بخار کھانسی چل رہی ہے، لوگ خود ہی پیچھے ہو جاتے ہیں۔ جو اس سے بھی راضی نہ ہو تو کھانسی کی مقدار بڑھانے سے وہ بھی سمجھ جاتا ہے۔
کل کی اموات 78 رہیں۔ “مولانا” کوکب نورانی صاحب بریلوی مسلک کے مشہور مولوی ہیں، کل منبر سے فرما رہے تھے کہ ہسپتال مت جائیں کیونکہ وہاں ڈاکٹروں کو مریض مارنے کے پیسے مل رہے ہیں۔ کرونا سے متاثر ہونے تک کرونا سازش ہی لگ رہا ہے عوام کو۔ شدید بیمار ہو کے اموات ہسپتال ہی میں ہو رہی ہیں۔ موت کے قریب شاید مجبوراً ہسپتال آنے میں علماء کی جانب سے رخصت ہے، چلو ڈاکٹروں کے کچھ ہزار ڈالر بھی بن جائیں تو ملک میں ہی پیسہ آئے گا!
میرا مشورہ یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر و دیگر چونچلوں کا مزید بتانے کا اب فائدہ نہیں ہے۔ عوام کو یہ سب تدابیر معلوم ہیں۔ لیکن فقدان اعتماد کا ہے۔ وہ ہم جتنی چاہیں آگہی مہم چلا لیں، پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ اعتماد کا یہ فقدان ہمارا پیدا کردہ نہیں نہ ہم اس کا حل کر سکتے ہیں۔
بس اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔ علامات ظاہر ہونے تک کام پر آئیں۔ بیمار ہو جائیں تو گھر بیٹھ جائیں۔ زیادہ لوگ بیمار ہوں تو وارڈ عارضی طور پر بند کریں۔ پھر جتنے زندہ بچیں وہ واپس آ کر وارڈ کھول لیں اور دوبارہ کام شروع ہو۔ گھر والوں سے روز ایسے ملیں/بات کریں جیسے آخری بار کر رہے ہیں۔ اپنے مالی معاملات و وصیت وغیرہ تیار رکھیں کہ کوئی پتا نہیں وقت قریب ہو۔ کسی سے معافی مانگنی، صلح کرنی، منانا باقی ہے تو یہ اچھا وقت ہے۔ اللہ سے تعلق ٹوٹا ہوا یا کمزور ہے تو اس طرف بھی توجہ کرنے کا اچھا وقت ہے۔ کرنے کے کام کیجیے، اپنے آپ کو بے سود محنت (عوام میں اعتماد کے فقدان کو آگہی سے پورا کرنے کی کوشش) میں مت کھپائیے۔

