اسلام آباد کے میئر نے عدالت کو اصل بات بتا دی
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور میئر اسلام آباد کے درمیان اختیارات کے تنازعے کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
عدالت نے قرا ردیا کہ ایم سی آئی، آئی سی ٹی، چیئرمین سی ڈی اے، سیکرٹری فنانس اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل سیکرٹری داخلہ کے ساتھ انکے دفتر میں بدھ کے دن سہہ پہر تین بجے ملاقات کریں اور تنازعہ کا حل نکال کر ایک ماہ میں رپورٹ پیش کریں ۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔مقدمے کی سماعت کے دوران ججز اور میئر اسلام آباد کے درمیان دلچسپ مکالمے ہوئے۔
چیف جسٹس نے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ ساڑھے چار سال سے میئر اسلام آباد ہیں بتائیں آ پ نے شہر کیلئے کیا کیا ؟
میئر اسلام آباد نے جواب دیا بیوروکریسی اسلام آباد میں انتخابات نہیں چاہتی تھی اسی وجہ سے مجھے کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔
میئر اسلام آباد نے کہا وفاقی حکومت لوکل گورنمنٹ کو چلانے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے۔چیف جسٹس بولے ہمیں تو آپ سنجیدہ نہیں لگ رہے،آپ اسلام آباد کے پہلے میئر ہیں، آپ کو ڈیلیور کرنا چاہیے تھا۔
ایڈووکیٹ سردار اسلم نے عدالت کو بتایا تین سال تک میئر اسلام آباد کی کارکردگی بہتر تھی، نئی حکومت کے آنے کے سبب لوکل گورنمنٹ کے حالات خراب ہوئے۔
چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے لندن کے میئر سے ملاقات کی کیا ان سے امور کی انجام دہی بارے پوچھا۔میئر اسلام آباد نے جواب دیا لندن میں تمام نظام میئر کے کنٹرول میں ہے، اسلام آباد میں میئر کے نظام کو چلنے نہیں دیا جارہا۔وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا اسلام آباد میں بس اڈوں کی تبدیلی بارے میئر اسلام آباد کیخلاف معاملہ چلا۔میئر اسلام آباد نے جواب دیا وفاقی حکومت نے مجھ پر بدنیتی پر مشتمل معاملہ کمیشن کو بھیجا ۔
چیف جسٹس نے کہا وفاقی حکومت کو مشکلات پیدا کرنے کی بجائے میئر اسلام آباد کو کام کرنے دینا چاہیے، عوام کی طاقت سے اقتدار میں آنے والے شخص کو کام کرنے دیں۔سیکرٹری داخلہ نے کہا چار سال گزرنے کے باوجود میئر اسلام آباد نے رولز آف بزنس اور شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ نہیں بنائے۔میئر اسلام آباد نے جواب دیا جنوری دو ہزار سترہ میں رولز بنا کر بھیجے لیکن اعتراض عائد کر دیا گیا، وزارت داخلہ کو بارہ خطوط لکھے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا ہم نے میئر کو اپنے ہاتھوں سے کام کرتے دیکھا ہے، اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر کام کریں۔میئر اسلام آباد نے جواب دیا میری کوئی انا نہیں ہے۔جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا ہمیں لگتا ہے آپ سیاست کرریے ہیں۔میئر اسلام آباد بولے میں سیاست نہیں بلکہ کام کررہا ہوں، جن اٹھارہ ارب روپے کا زکر ہو رہا ہے وہ سی ڈی اے خرچ کررہا ہے،میرا 18 ارب روپے سے کوئی لینا دینا نہیں۔
عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد حکمنامے میں قرار دیا کہ میئر اسلام آباد نے شکایت کی کہ انھیں کام نہیں کرنے دیا جارہا،ایم سی آئی کے 10 ہزار 6 سو پچاس ملازمین لوکل گورنمنٹ کو منتقل کیے گئے، 10 ہزار 6 سو پچاس ملازمین سوائے تنخواہ لینے کے کوئی کام نہیں کر رہے۔
عدالت نے کہا ایم سی آئی، سیکرٹری داخلہ، آئی سی ٹی، چیئرمین سی ڈی اے سیکرٹری فنانس ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملاقات کریں، ملاقات میں تنازعات کا حل نکالا جائے،پہلا اجلاس پرسوں سہہ پہر تین بجے سیکرٹری داخلہ کے دفتر میں بلایا جائے،اجلاس روزانہ کی بنیاد پر بلایا جائے تمام تنازعات کا حل نکالا جائے،وفاقی حکومت اور میئر اسلام آباد کے مابین تنازعات کا حل نکال کر ایک ماہ میں رپورٹ پیش کی جائے۔

