وبا کے باوجود زندگی کا پہیہ چلتا رہنا چاہیے: حکومت
پاکستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے شہریوں میں پھیلتی بے چینی پر منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ سنی سنائی بات نہ پھیلائی جائے، وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کم کرنی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے 15 کروڑ شہری سخت تکالیف سے گزرے اور حکومت چاہتی ہے کہ زندگی کاپہیہ چلتا رہے، احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو کارروائی کی جائے گی۔
سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ100دنوں میں1900 شہری وائرس سے ہلاک ہوئے اور یہ شرح 10لاکھ میں سے9 اموات کی ہے۔ وباکا پھیلاؤ روکنا ہماری اولین ترجیح ہے، عوام کی صحت کی ذمہ داری انتظامیہ کے کندھوں پر ہے، ہم ایسے خطے میں رہتے ہیں جہاں وبا کا پھیلاؤ اتنا مہلک نہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔
اسد عمر نے خبردار بھی کیا کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو کارروائی کرنا پڑے گی۔
وفاقی وزیر نے ملک میں وینٹی لیٹرز کی دستیابی سے متعلق بھی اگاہ کیا اور کہا کہ یومیہ 35سے36ہزارٹیسٹ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
اسد عمر نے بتایا کہ چھوٹا کاروبار سکیم سے 35 لاکھ تاجروں کوریلیف دیا ہے اور احساس کیش پروگرام ایک کروڑ سے زائد خاندانوں تک پہنچ چکا۔

