متفرق خبریں

ملیریا کی دوا کا استعمال کیسے کیا جائے؟

جون 6, 2020

ملیریا کی دوا کا استعمال کیسے کیا جائے؟

پاکستان میں XDR ٹائفائڈ یعنی
‏ (Extensively Drug-Resistant Typhoid)
وبا کرونا سے کافی پہلے کی موجود ہے۔ واحد اورل جراثیم کش دوا جو اس میں کارآمد باقی بچی تھی وہ ایزیتھرومائیسن Azithromycin تھی۔ باقی تمام اینٹی بائیوٹک ہم من حیث القوم اپنی غلط عادات (بلا ضرورت، بلا تشخیص ہر سادہ وائرل بخار میں اندھا دھند من پسند اینٹی بائیوٹک کے استعمال) کی وجہ سے ناکارہ بنا چکے ہیں۔ ہمارے یہاں ٹائیفائڈ اور ٹی بی کے “سُپر بَگ” super bugs سے اس وقت پوری دنیا خوف زدہ (کہ یہ بیماری ایکسپورٹ نہ کر دیں) جبکہ ہمارے لوگ مسلسل مر رہے ہیں۔

خیر، Azithromycin وہ واحد اورل دوا رہ گئی تھی جو XDR ٹائیفائیڈ میں کام کرتی تھی۔ اب کرونا کی وجہ سے ہر وال پر اس کا چرچہ ہے۔ جس کا جیسے دل چاہ رہا ہے وہ استعمال کر رہا ہے۔ جن کو واقعی چاہیے ان کے لیے میڈیکل سٹور پر بھی دستیاب نہیں رہی۔

اب اس کے نتائج یہ ہوں گے کہ ٹائیفائیڈ سے اموات میں اضافہ ہو گا۔ سناء مکی کا بغیر حکیم/ہربلسٹ کی رائے استعمال کر کے قوم نے جلاب لگوایا ہے، اس دوا کا انہے وا استعمال کئیوں کو موت کے مونہہ میں پہنچائے گا (افسوس کے ساتھ)۔

سمجھ داروں سے التماس ہے کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اسے استعمال مت کریں۔ چونکہ سمجھ دار کم پائے جاتے ہیں، تو ان سے مزید التماس ہے کہ یہ ذہن بنا لیں کہ مستقبل میں اب Azithromycin بھی ناکارہ ہو جائے گی کیونکہ جو خرید رہے ہیں وہ مرضی سے استعمال لازماً کریں گے جیسے پہلے اینٹی بائیوٹک کرتے رہے۔ اس لیے خود کو اور خاندان میں تمام افراد کو Typbar ویکسین لگوانے کا بندوبست کریں۔ باہر کا کھانے یا باہر کا کچھ بھی پینے سے حتی الوسع پرہیز کریں۔

-Dr. Uzair Saroya

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے