چینی سبسڈی کا معاملہ نیب کے حوالے
پاکستان میں وفاقی حکومت نے چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو ریفرنس بنانے کے لیے کہا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد میں وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز اور معاون خصوصی شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ 25 برس میں حکومتوں کی جانب سے چینی پر جتنی بھی سبسڈی دی گئی سب کی تحقیقات اور کارروائی کے لیے معاملہ قومی احتساب بیورو کو بھیجا جا رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں روایات رہی ہیں کہ کمیشن بنتے رہے لیکن رپورٹ سامنے نہیں آتی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے نے چینی کورٹ پبلک کرنے کا کہا۔ رپورٹ میں بڑے بڑے نام تھے لوگوں کا خیال تھا کہ کچھ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ جن لوگوں نے چینی پر سبسڈی دینے میں کردار ادا کیا اور جن لوگوں نے سبسڈی لی، اگر انہوں نے قواعد کی خلاف ورزی کی تو اس کی بھی نیب تحقیقات کرے گا اور کارروائی کی جائے گی۔
شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ 2015-2014 اور 2016-2015 میں ساڑھے چھ چھ ارب روپے کی سبسڈی دی گئی جبکہ2017-2016 میں 20 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی اسی طرح 2018 میں بھی سبسڈی دی گئی جس کا مقدمہ بھی نیب کو دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1985 سے اب تک جتنی سبسڈیز دی گئی ہیں ان کی تحقیقات نیب کے قوانین کے تحت کی جائیں گی۔

