پاکستان پاکستان24

این ڈی ایم اے کو من مرضی کی اجازت نہیں: سپریم کورٹ

جون 8, 2020

این ڈی ایم اے کو من مرضی کی اجازت نہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال میں ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت میں عدالت نے فوج کے زیرانتظام ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے فنڈز کے آڈٹ کرانے کا عندیہ دیا ہے جبکہ کاروبار ہفتے کے ساتوں دن کھلے رکھنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ کورونا کے کتنے ٹیسٹ سرکاری اور کتنے نجی لیب نے کیے؟ ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے جواب دیا کہ یہ تمام تفصیلات صرف وزارت صحت دے سکتا ہے، ہمارا کام لیب کو طبی سامان فراہم کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ابتک کتنے ٹیسٹ کرونا کے مفت کیے گئے ہیں؟ ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے جواب میں بتایا کہ حکومت کورونا کے ٹیسٹ مفت کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی تمام خریداری کا آڈٹ کرائیں گے ،این ڈی ایم اے کو لائسنس نہیں دے سکتے وہ اپنی مرضی سے جو چاہے کرتا پھرے۔ عدالت نے قرار دیا این ڈی ایم اے طبی سامان کی تیاری کے لیے مشینری بیرون ملک سے منگوانے کا ریکارڈ اور تفصیلات پیش کرے ۔

مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد اور این ڈی ایم اے کے لیگل ممبر ادریس محسود کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا ۔

چیف جسٹس نے پوچھا ٹڈی دل کے سدباب کیلئے این ڈی ایم اے نے اب تک کیا کیا ؟۔این ڈی ایم اے کے ممبر لیگل نے جواب دیا ٹڈی دل کے سپرے کے لیے ترکی سے جہاز لیز پر لیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا اسپرے کے لئے جہاز لیز پر کیوں لیا گیا؟کیا پاکستان میں اسپرے کے لئے جہاز لیز پر نہیں مل سکتا؟ترکی سے جہاز لیز پر لیتے ہوئے قوائد کی پیروی کی گئی،کیا جہاز لیز پر لینے کے لیے ٹینڈر دیا گیا۔ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے جواب دیا ترکی سے جہاز ایمرجنسی بنیادوں پر لیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے ممبر لیگل این ڈی ایم اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا این ڈی ایم اے نے جو سامان منگوایا اس کی دستاویزات ریکارڈ پر کیوں نہیں،یہ نہیں ہوسکتا جو مرضی چاہیں کرتے پھریں ،ہم تمام خریداری کا آڈٹ کروائیں گے، صوبوں کا بھی آڈٹ ہوگا ، ہم دیکھتے ہیں کرونا پر کس نے کیا کچھ کیا ہے ۔ این ڈی ایم اے کے نمائندے نے کہا ہم نے آڈٹ کرانے کیلئے درخواست دے رکھی ہے ۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے کو اپنی مرضی سے کام کرنے کا لائسنس نہیں ملا ہوا، این ڈی ایم اے کی ایک ایک چیز کا آڈٹ کروا لیں گے،دیکھیں گے کس نے کرونا وائرس میں کیا کیا،ٹڈی دل پر اسپرے کیلئے چار جہاز فعال نہیں ہیں،جہاز کے پائلٹ نہیں تھے تو یہ چار جہاز کہاں سے آگئے، ہمارے اپنے جہاز نہیں چل رہے باہر سے لا کر اسپرے کیا جارہا ہے،سکھر میں ایک جہاز کھڑا ہے تیز ہوا چلی تو وہ جہاز اڑ جائے گا، سکھر میں کھڑا جہاز کسی نے باندھ کر بھی نہیں رکھاگیا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا نہیں معلوم ترکی سے جہاز لیز پر لے کر کس نے فائدہ اٹھایا ،این ڈی ایم اے کو ٹڈی دل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔عدالت نے کرونا وائرس کے ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے قانون سازی نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہارکیا ۔اٹا رنی جنرل نے کہا سپریم کورٹ ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کیلئے حکمنامہ جاری کرے، عدالتی حکم کا بہت اثر ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے وفاق نے قانون سازی ہی نہیں کی،ہم متعدد فیصلوں میں قومی سطح پر قانون سازی کرنے کا کہہ چکے ہیں،چائینہ سمیت متعدد ممالک نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے قانون سازی کی، وفاق ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کی بجائے قانون سازی کرے، کرونا زندگی کیلئے خطرہ ہے یہ بات پریس کانفرنس کے زریعے بلکہ قانون سازی کے زریعے عوام کو بتائیں۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ صفائی کے عملے پر حفاظتی آلات کے بغیر گٹر میں اترنے پر پابندی عائد کی جائے۔چیف جسٹس نے کہا اس حوالے سے بھی وفاق قانون سازی کرے، کاروبار سات دن تک کھلے رکھنے سے متعلق حکمنامے کی وضاحت کر چکے ہیں، ہم نے واضح کر دیا تھا سات دن کاروبار کھلے رکھنے کا فیصلہ صرف عید تک کے لیے ہے۔

عدالت نے کرونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت پر بھی تحفظات کا اظہا رکیا ۔ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے کہا کرونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت 30 ہزار سے بڑھ چکی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا تیس ہزار ٹیسٹ تو نہ ہونے کے برابر ہیں ،پاکستان کی آبادی تو بائیس کروڑ ہے۔

این ڈی ایم اے کی طرف سے بتایا گیا کہ کوورنا ٹیسٹنگ کی سو لیب قائم کی جا چکی ہیں ۔چیف جسٹس نے کہابائیس کروڑ کے لیے صرف سو لیب کیسے ،سولیب صرف کورونا وائرس مریضوں کے لیے ہیں ،کیا باتیں کر رہے ہیں سو لیب سے کیاہو گا ، سو لیب تو صرف کراچی میں ہونی چاہیں۔این ڈی ایم اے کی طرف سے بتایا گیا یہ تمام تفصیلات صرف وزارت صحت دے سکتا ہے،ہمارا کام لیب کو طبی سامان فراہم کرنا ہے۔

عدالت کے استفسار پر ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے کہا چین نے پاکستان کو ایک سو وینٹی لیٹر عطیہ کیے ہیں، 1400 وینٹی لیٹر بیرون ممالک سے خریدے گئے ہیں، پی او ایف واہ، ڈسکو اور نجی صنعت وینٹی لیٹر بنا رہی ہے ۔

عدالت نے حکومت سے ٹڈی دل حملوں سے نقصانات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ ٹڈی دل کے حملوں سے فوڈ سیکیورٹی کو کتنا نقصان ہوا، نقصان کے نتیجے میں باہر سے فوڈز منگوانے پر کتنے اخراجات آسکیں گے۔

عدالت نے قرار دیا حکومت کورونا کے خاتمے کے لیے قانون سازی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے، تمام حکومتیں سینیٹری ورکرز کو حفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائیں ، سینیٹری ورکرز کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جائے۔

عدالت نے این ڈی ایم اے سے طبی سامان کی تیاری کے لیے مشینری ایمپورٹ کرنے کا ریکارڈ اور تفصیلات بھی طلب کرلیں ۔سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ترکی سے ٹڈی دل اسپرے کے لیے جہاز لیز پر لینے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے ۔جبکہ ہفتہ اور اتوار کو مار کیٹیں کھولنے کا حکم بھی واپس لے لیا۔

جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا کہ کیا حکومت ٹڈی دل سے لڑنے میں سنجیدہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں پائلٹس کی کمی ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں معلوم ترکی سے جہاز لیز پر لے کر کس نے فائدہ اٹھایا۔ کیا این ڈی ایم اے ٹڈی دل کے پیچھے بھاگ رہا ہے، این ڈی ایم اے کو ٹڈی دل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے، ہم نے ٹڈی دل کو بچپن میں دیکھا تھا یا اب دیکھ رہے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے