عام پاکستانی کیا سوچتا ہے؟
مدثر حسن ایڈووکیٹ
میں عام پاکستانی ہوں۔ میری بات کی کوئی حیثیت نہیں۔ میری آواز کسی محل کے دروازے پر نہیں جا سکتی ۔ میرا خیال کسی کی نگاہ التفات نہیں پا سکتا۔ میرے عام سے مسائل ہیں ۔ بچوں کی فیس، تیس تاریخ کا انتظار ، سودا سلف۔ بیماری ،خوشی ، غم اور جو کچھ بھی دار دنیا میں رہ کر ایک انسان دیکھتا سنتا ہے وہی میرا بھی حال ہے۔
میری سیاسی وابستگی بھی ہے میرا اپنا سیاسی نظریہ بھی ہے۔ میں اپنے ملک لیے بھی سوچتا ہوں اور اپنی زمین سے محبت بھی کرتا ہوں اور کروں بھی کیوں نا۔ یہاں میں نے شعور کی منزلیں طے کی ہیں۔ اس مٹی کے کھیتوں کھلیانوں میں میرا بچپن لڑکپن گزرا ہے۔ مجھے اپنے گائوں کی ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں پھرتے لوگوں سے ، جانوروں سے اور شام کے اوقات میں گھروں کو واپس آتے کسانوں سے عجیب انس ہے۔ شاید دینا کے سبھی لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ لیکن پچھلے چند ماہ سے مجھے ایسا لگنے لگا ہے جیسے میرے دیس پر کوئی غیر قابض ہو گیا ہے جو ہم میں سے نہیں ۔ جسے ہمارے دکھ درد سے کچھ لینا دینا نہیں۔ جسے اپنی انا عزیز ہے اور وہ خود کو واقعی کوئی آسمانی مخلوق سمجھتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ آسمانوں سے منتخب کیا گیا ہے اور زمینی کیڑوں سے اسے نفرت ہے۔ وہ بات کرتا ہے تو اس میں رعونت ہوتی ہے۔ وہ کیمرے کے سامنے آتا ہے تو اسے لگتا ہے وہ دنیا کا بہترین مقرر ہے ۔ اسکے مداح اسکی مدح سرائی میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہو ایسا ہی ہو مگر مجھے اس بات سے بھی کچھ لینا دینا نہیں۔
میں اس بات سے بھی لا تعلق ہو سکتا ہوں کہ اور دل کو بہلا سکتا ہوں کہ جیسی قوم ہوتی ہے ویسے حکمران مسلط کر دیے جاتے ہیں مگر مجھے پھر بھی ایک گلا ہے ۔ مجھے اس شخص سے گلا ہے جسے مجھ جیسے سادہ دل پاکستانیوں نے کتنی چاہ اور محبت سے تین دفعہ وزیر اعظم بنایا۔ میں جب بارہ سو روپے کلو ملنے والا شہد چوالیس سو کا دیکھتا ہوں تو لامحالا دل میں خیال آتا ہے کہ نواز شریف ہوتا تو شاید ایسا نہ ہوتا۔ میں جب پٹرول کی لمبی لائن میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کرتا ہوں تو دل بار بار کہتا ہے کہ شاید شہباز شریف کو فون کر کے نواز شریف کہتے کہ لاہور میں جو پٹرول پمپ سپںلائی نہیں دے رہا اسے سخت سزا دو۔ میں جب اٹھائیس سو روپے من آٹا خرید کر لاتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اسحٰق ڈار ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے۔ جب 450 روپے کلو چکن لاتا ہوں تو حمزہ شہباز کے بارے میں سوچتا ہوں کہ اسے شاید 150 روپے چکن فروخت کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔ 90 روپے کلو چینی خریدتا ہوں تو لگتا ہے سلمان شہباز 53 روپے بیچ کر بھی برا لگتا تھا۔
مجھے راہزنوں سے گلہ تو تھا ہی نہیں اور رہبری کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ میرے ملک کے حکمران کو ساری قوم ہی بےوقوف لگتی ہے ۔ مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں مجھے گلہ تو نواز شریف سے ہے جو اس وقت خاموش ہے۔ مجھے دکھ ہوتا ہے جب میری جیب پر ڈاکہ ڈلتا ہے اور میرا سیاسی عشق ہائیڈ پارک میں واک کرتا ہوا بے خبر نظر آتا ہے۔ مجھے رنج ہوتا ہے جب میرے لیڈر کی نڈر بیٹی مجھے لوٹنے والوں پر خاموش رہتی ہے ۔ میں لاتعلق ہو رہا ہوں آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی اور میری آواز پھر کہیں دب جائے گی۔ میرا کوئی پرسان حال نہیں کیونکہ میں عام پاکستانی ہوں۔ میرا ملک وبا یافتہ ہے اور میرا حکمران اب بھی یہی سوچ رہا ہے کہ کہ اب کسے جیل میں ڈالوں۔

