پاکستان24 متفرق خبریں

جسٹس فائز خود پیش، ”عدلیہ کی خودمختاری اہم ہے“

جون 17, 2020

جسٹس فائز خود پیش، ”عدلیہ کی خودمختاری اہم ہے“

پاکستان کی سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک نے اثاثوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے کیس کا میرٹ پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی ہے۔

قبل ازیں جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا تھا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہو کر عدالت کو بیرون ملک جائیداد خریدنے کی تفصیل بتانے کو تیار ہیں۔ وفاقی حکومت نے ان کی پیشکش قبول کی ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

بدھ کی صبح سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہوئی جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ وہ عدالت میں ججز کے سامنے وکلا کے ساتھ نشست پر بیٹھے۔ سماعت کے آغاز پر انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوکر بیرون ملک جائیدادوں کے خریدنے کی تفصیل دینا چاہتی ہیں، یہ مقدمہ ایک جج کا نہیں بلکہ پوری عدلیہ کا ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ ان کو یہ پیشکش قبول ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسی چاہتے ہیں اس مقدمے کا میرٹس پر فیصلہ کیا جائے، ابھی دوسرے مرحلے پر ہمارے دلائل رہتے ہیں، میں نے یہ مقدمہ اس لیے لیا کیونکہ یہ مقدمہ ایک جج کا نہیں بلکہ عدلیہ کی خودمختاری کا ہے، تیرہ ماہ سے میرے موکل کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے.

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جج صاحب کی اہلیہ کی طرف سے بتایا گیا وہ ویڈیو لنک کے زریعے عدالتی معاونت کرنا چاہتی ہیں، جج صاحب کی اہلیہ تحریری درخواست دیں ہم اس کا جائزہ لیں گے،منیر اے ملک صاحب آپ اپنے موکل سے اہلیہ کی تحریری درخواست بارے پوچھ کر بتا سکتے ہیں.

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مقبول باقر نے اہم ریمارکس دیے۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کو شطر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ سکتے،اہلیت،ثبوت اور مواد نہ ہو اور آپ جج کیخلاف ریفرنس لے آئیں،ایسا کرنے سے عدلیہ عدم تحفظ کا شکار ہوگی،یہ مقدمہ عدلیہ کی خودمختاری، آزادی اور تحفظ کا ہے،ہم اسے ایک طرف نہیں رکھ سکتے،اٹھائے گئے سوالات کا تعلق عدلیہ کی آزادی سے متعلق تحفظات سے ہیں، بعض اوقات ہم زیادہ سوالات بھی کردیتے ہیں، زہن کو واضح کرنا ہوتا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے مزید کہا معاف کیجیے گا پاکستان کی تاریخ کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے، پاکستان میں آئین کو تباہ کیا گیا، پاکستان میں ادارے تباہ کیے گئے، انتظامی حکومتیں ختم کی گئیں، اگر ہم نے آج ہم نے اصول و قانون واضح نہیں کیے توہم تاریخ کے مجرم ہوں گے۔

جسٹس مقبول باقر نے مزید کہا کہ ہم نہ ادارے کے خلاف ہیں اور ہی کسی شخص کے خلاف ہیں،ہم آئین و قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، آئین و قانون کے تحفظ میں ہماری قربانی بھی ہو جائے تو دریغ نہیں کریں گے، میں کوئی تقریر نہیں کر رہا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کیخلاف ریفرنس سننے والی کونسل کو جہازوں میں لاد کر لایا گیا، افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس بعد میں آیا ججز پہلے بیٹھ چکے تھے.

جسٹس مقبول باقر نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس میں بھی ماضی کی طرح سنگین چیزیں ہیں،اگر ہم لکھنے پر آئے تو پھر لکھیں گے۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے پیش ہو کر اپنی بات کا قرآن کی آیت سے شروع کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک قرآن کی آیت ہے الزام تراشی موت سے بدتر ہے، اس قرآنی آیت کی اب سمجھ آئی، یہ مقدمہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نہیں بلکہ عدلیہ کا ہے، یہ عدلیہ کیلئے ایک مشکل ترین وقت ہے۔

وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ انہوں نے جج صاحب یا ان کی اہلیہ پر طنز یا الزام تراشی نہیں کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کو میں اپنی بہن مانتا ہوں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز سے کہا کہ حکومتی وکیل کے پاس آج آخری دن ہے ان کو دلائل مکمل کرنے دیں۔ اگر آپ نے کوئی بات کرنی ہے تو تحریری صورت میں پیش کریں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وقفہ کرتے ہیں اور ہم پانچ منٹ بعد دوبارہ آتے ہیں۔

وقفے کے بعد بینچ کے سربراہ نے کہا کہ جج صاحب کے بیان پر غور کیا ہے، جج صاحب نے اہلیہ کی جانب سے بیان دیا، اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا، تاہم ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے موقف دیں، تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میری اہلیہ وکیل نہیں ہیں، ان کو کو کسی وکیل کی معاونت نہیں ہوگی، اہلیہ کہتی ہیں اکاونٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر نیا ریفرنس نہ بنا دے، اہلیہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں، اہلیہ کا موقف سن کر جتنے مرضی سوال کریں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے، میری اہلیہ کو ریفرنس کی وجہ سے بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے، اہلیہ کو عدالت کے سامنے موقف دینے کی اجازت ہونی چاہیے، اپنی اہلیہ کا وکیل نہیں ان کا پیغام لے کر آیا ہوں۔

جسٹس عمر عطا نے جسٹس قاضی فائز کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھیں جج صاحب۔

جسٹس فائز نے جواب میں کہا کہ میں یہاں جج نہیں درخواست گزار ہوں۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہم آپ کی پیش کش پر مناسب حکم جاری کریں گے، اہلیہ کا پیغام ہم نے سن لیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میری اہلیہ کی استدعا کو تبدیل نہ کریں، جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہم اہلیہ کی زبانی موقف دینے کی پیش کش پر غور کریں گے۔

جسٹس فائز نے کہا کہ میں منافق نہیں ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے آواز رندھ گئی۔

قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیتے وقت جسٹس قاضی فائز عیسی جذباتی ہوگئے، انہوں نے کہا کہ میری ایک استدعا ہے، اہلیہ کی جانب سے ویڈیو لنک کے زریعے پیش ہوکر تفصیل بتانا الگ معاملہ ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں بدنیتی اور جاسوسی سے متعلق اپنے مقدمے پر کھڑا رہوں گا، ریفرنس کے خلاف اپنے آئینی مقدمے پر قائم ہوں، وزراء پریس کانفرنسوں میں زیر سماعت مقدمے پر بات کررہے ہیں، سپریم کورٹ میں یہ بات کہی گئی کہ ایف بی آر نے ہاتھ کھڑے کردیے، عدالت میں کہا گیا جج کی اہلیہ کے خلاف ایف بی آر کیسے کارروائی کرے گا۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ آپ مفروضے پر بات نہ کریں، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہ مفروضہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی کہی ہوئی بات ہے، وفاقی حکومت نے بھی مفروضے پر مشتمل بات کی۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ہم ججز ٹیکس پیئر ہیں، ایف بی آر ججز کو نوٹس جاری کر سکتا ہے، جج صاحب آپ کا بڑا احترام ہے ہم اپنے نرم رویے کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ میری اہلیہ اور بیوی بچوں پر جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا، یہ کہا گیا بتادیں جائیدادیں کیسے خریدی گئیں، جائیدادوں کی حقیقت سے کبھی انکار نہیں کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کہا مجھے علم ہے جائیدادیں اہلیہ اور بچوں کی ہیں اور ان کے جج بننے سے قبل کی ہیں، علم ہے ٹرسٹ کے ذریعے جائیدادوں کی ملکیت چھپائی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ میں نے، اہلیہ اور بچوں نے میڈیا پر آکر کوئی بات نہیں کہی۔

سربراہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ شہزاد اکبر نے گزشتہ روز بھی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر زیر سماعت مقدمے پر بات کی، کیا بطور انسان اور بطور پاکستانی میرے حقوق نہیں ہیں، سابقہ اٹارنی جنرل کہتے رہے مجھ پر مقدمہ ثابت ہوگیا، میرے خلاف ایک بھاری دستاویزات پر مشتمل جواب الجواب دائر کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ان کی اہلیہ پر طنز کیا گیا کہ سلائی مشین چلا کر کمائی گئی، میری اہلیہ کے بارے میں کہا گیا سلائی مشین چلا کر چھ ملین پاؤنڈ کمائے گئے۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ برا مان گئے ہیں، میں نے تو ایک مثال دی تھی، اسی مثال کو حکومتی وکیل نے آگے بڑھایا، ہمارے دل میں آپ کیلئے بڑا احترام ہے، آپ جو باتیں کہہ رہے ہیں وہ موثر انداز میں وکیل کے ذریعے کہہ سکتے ہیں، آپ جذباتی ہو رہے ہیں، ناراض نہ ہوں، جسٹس قاضی نے کہا کہمجھ پر الزام لگایا گیا کہ دس رکنی بنچ میں سے ایک یا دو ججز نے میری درخواست ڈرافٹ کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایسا کہنے پر توہین عدالت کا نوٹس کیوں جاری نہیں کیا؟

آپ اس بات کو چھوڑ دیں، جسٹس عمر عطا بندیال

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے مجھے طلب کرکے کیوں نہیں پوچھا، میری اہلیہ دو مرتبہ ایف بی آر کے دفتر گئیں، اہلیہ سرکاری سکواڈ اور سرکاری گاڑی کے بغیر ایف بی آر کے دفتر گئیں، اہلیہ نے ایف بی آر سے پوچھا غیر ملکی جائیدادوں سے متعلق کیوں نہیں پوچھا گیا، ایف بی آر نے میری اہلیہ سے تضحیک آمیز رویہ اپنایا۔ میں نے اہلیہ سے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے والون کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہ مقدمہ ایک جج کا نہیں بلکہ عدلیہ کا ہے۔

سرکاری وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ میرا جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ ذاتی عناد نہیں ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی میرے بڑے ہیں۔

کیس کی سماعت جمعرات کی صبح تک ملتوی کر دی گئی۔

جہانزیب عباسی اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں جو سپریم کورٹ سے رپورٹ کرتے ہیں اور نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے