پاکستان

جسٹس فائز کیس: ’عدلیہ کی خودمختاری اہم ہے‘

جون 19, 2020
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ فوٹو: پاکستان ٹوئنٹی فور

جسٹس فائز کیس: ’عدلیہ کی خودمختاری اہم ہے‘

صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ مشاورت کے بعد آج مختصر حکمنامہ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ ججز میں اتفاق رائے ہوا تو چار بجے سنایا جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ جج کے خلاف بدنیتی پر مبنی ریفرنس میں جائزہ لینے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا نہیں ہے، یہ جائزہ صرف سپریم کورٹ لے سکتی ہے، کونسل صرف میرٹس اور کنڈکٹ کو دیکھتی ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

عدالتی حکم کی تعمیل میں ایف بی آر کا عملہ ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوگیا۔ ایف بی آر حکام نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے ٹیکس ریٹرنز ریکارڈ سربمہر لفافے میں جمع کرا دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا اس ریکارڈ کو فی الحال سر بمہر ہی رہنے دیں، ہم اس ریکارڈ کا جائزہ لیں گے،اس ریکار کی بنیاد پر فیصلہ جاری نہیں کرنا، ایف بی آر کے ریکارڈ پر فیصلے کا فورم الگ ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے ویڈیو لنک پر جائیدادوں کی تفصیل بتا دی تھی، بیگم صاحبہ نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے جواب الجواب دلائل میں کہا کہ خود مختار عدلیہ کا تقاضا ہے کہ ادارے کی تکریم اور ہم آہنگی کا خیال رکھا جائے، مجھے اس کیس نے 13 سال پہلے کے ایک واقعے کی یاد دلا دی،13 سال پہلے افتخار چوہدری کے خلاف مقدمے کو دو مراحل میں سنا گیا.

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے پہلے مرحلے پر فیصلہ دیا،دوسرا مرحلہ بدنیتی سے متعلق تھا.

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا بد نیتی بارے آپکا اشارہ سپریم سپریم جیوڈیشیل کونسل کئ طرف ہے، یہاں متعدد "ریڈ لائنز” کھینچی ہوئی ہیں.

منیر اے ملک نے کہا میں اب تک تذبذب کا شکار ہوں کہ وفاقی حکومت کا دراصل مقدمہ کیا ہے، صدارتی ریفرنس کی بنیاد تو انکم ٹیکس قانون اور منی لانڈرنگ ہے،وفاقی حکومت کے وکیل کے دلائل ریفرنس میں اٹھائے گئے سوالات سے مختلف ہیں.

منیر اے ملک نے کہا جس وزارت نے ریفرنس بنایا اسکے وزیر نے وفاقی حکومت کے وکیل کی حیثیت سے دلائل دیئے،میری قانونی ٹیم نے سارے قوانین چھان مارے ہیں،نام نہاد نظریہ قربت والی بات قانون میں کہیں نہیں ملی،حکومتی وکیل نے جبرالٹر کیس کا حوالہ دیا، دونوں مقدموں کے حقائق یکسر مختلف ہیں.

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں,الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے,فروغ نسیم نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کر دی, بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے ہیں.

ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا کہ حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آ گئی، ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا، چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس کالعدم قرار دے، سپریم جوڈیشل کونسل کے احکامات اور شوکاز نوٹس میں فرق ہے۔

منیر اے ملک نے حکومتی وکیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دلائل دیے کہ ’کہا گیا ہے کہ افتخار چوہدری کیس میں شوکاز نوٹس جاری نہیں ہوا تھا، اول تو آرٹیکل 209 میں شوکاز نوٹس کا ذکر ہی نہیں، سپریم جوڈیشل کونسل نے افتخار چوہدری کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔‘

جسٹس فائز کے وکیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل صدر کے کنڈکٹ اور بدنیتی کا جائزہ نہیں لے سکتی، سپریم جوڈیشل کونسل کا کام صرف حقائق کا تعین کرنا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ شوکاز نوٹس کے بعد جوڈیشل کونسل کو آئینی تحفظ کا سوال بہت اہم ہے,

وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ وزیراعظم کو کوئی نیا ادارہ یا ایجسنی بنانے کا اختیار نہیں، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کیلئے رولز میں ترمیم ضروری تھی، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے ٹی او آرز قانون کیخلاف ہیں، باضابطہ قانون سازی کے بغیر اثاثہ جات ریکوری یونٹ جیسا ادارہ نہیں بنایا جاسکتا۔

جسٹس یحیی آفریدی نے پوچھا کہ شوکاز نوٹس کے جواب کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیوں کیا گیا؟

منیر ملک نے کہا کہ جو ریلیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو چاہیے وہ جوڈیشل کونسل نہیں دے سکتی، لندن جائیدادوں کی تلاش کیلئے 192.com کو استعمال کیا گیا، ر سرچ کرنے کیلئے ادائیگی کرنا پڑتی ہے، آن لائن ادائیگی کی رسید ویب سائٹ متعلقہ بندے کو ای میل کرتی ہے، ضیاء المصطفی نے ہائی کمشن کی تصدیق شدہ جائیداد کی تین نقول حاصل کیں، جن سیاسی شخصیات کی سرچ کیں اس کی رسیدیں بھی ساتھ لگائی ہیں، حکومت رسیدیں دے تو سامنے اجائیگا کہ جائیدادیں کس نے سرچ کیں۔

وکیل نے کہا کہ وحید ڈوگر نے ایک جائیداد کا بتایا تھا۔ اگر سرچ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کیں تو رسیدیں دے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اے آر یو نے بظاھر صرف سہولت کاری کا کام کیا ہے۔ منیر اے ملک نے بتایا کہ حکومت کہتی ہے کہ دھرنا فیصلے پر ایکشن لینا ہوتا تو دونوں ججز کے خلاف لیتے۔ حکومت صرف فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کو ھٹانا چاھتی ہے۔

سپریم کورٹ نے پاکستان سے باھر گئے پیسے کو واپس لانے کے لئے کمیٹی بنائی تھی۔ سپریم کورٹ کی کمیٹی نے تجویز کیا تھا کہ آمدن اور اثاثوں کے فارم کئی ابہام ہیں۔ الزام عائد کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے جان بوجھ کر جائیدادیں چھپائیں۔عدالتی کمیٹی کہتی ہے غیر ملکی اثاثے ظاھر کرنے سے متعلق قانون میں بھی ابہام ہے۔ منیر اے ملک

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ کا موقف تھا کہ ریفرنس سے پہلے جج کی اہلیہ سے دستاویز لی جائیں۔ کل کی سماعت کے بعد آپ کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ کیا ھم ایسا قانون چاھتے ہیں کہ ایک ادارہ دوسرے کی جاسوسی کرے۔؟

جج کے بنیادی حقوق زیادہ اھم ہیں،یا ان کا لیا گیا حلف ؟ جسٹس یحیی آفریدی

عدالت درخو است کو انفردی شخص کے حقوق کی پٹیشن کے طور پر نہ لے ۔منیر اے ملک

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک کے جواب الجواب پر دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسلام ہر مرد اور عورت کو جائیداد رکھنے کا حق دیتا ہے۔ حامد خان نے دوران دلائل سورہ النساء کا حوالہ دیا۔

سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل رضا ربانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ تاثر دیا گیا کہ آے ار یو لیگل فورس ہے، حکومت کے مطابق وزیر اعظم ادارہ بنا سکتے ہیں، وزیر اعظم وزارت یا ڈویزن بنا سکتے ہیں، قواعد میں جن ایجنسیوں کا ذکر ہے وہ پہلے سے قائم شدہ ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جتنی بھی ایجنسیاں موجود ہیں ان کو قانون کی سپورٹ بھی حاصل ہے۔ وکیل نے کہا کہ اے آر یو یونٹ کو لامحدود اختیارات دیئے گئے، نوٹیفیکیشن کے مطابق اے آر یو کو کابینہ کے فیصلے کا تحفظ حاصل ہے۔ رضا ربانی نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اے آر یونٹ کے لئے قانون سازی نہیں کی گئی۔

خیبر پختونخوا بار کونسل کے وکیل افتخار گیلانی نے اپنے دلائل میں کہا کہ صوبے کے 20 ہزار وکلا کی نمائندگی کررہا ہوں، اس مقدمے میں 29 درخواستیں مختلف بار کونسل اور بار ایسو سی ایشنز نے دائر کی ہیں، کوئی بھی درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسی کا رشتہ دار نہیں، یہ درخواست گزار عدالتی نظام کا حصہ ہیں۔

افتخار گیلانی نے کہا کہ حکومتی ریفرنس بے بنیاد اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے، عدالت سے درخواست ہے کہ آئین کا تحفظ کریں، ملک کی وکلا برادری عدالت عظمی کے سامنے کھڑی ہے، آئین کے تحفظ اور بحالی کے لئے آمروں کے دور میں جیل جانا پڑا، یہ برابری کا مقدمہ بھی ہے۔

سینیئر وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ ہماری بہن اور بیٹی کو عدالت آنا پڑا، انہیں بلایا نہیں گیا وہ خود اپنا موقف دینے آئیں، بار کونسل یا بار ایسوسی ایشن کا کوئی زاتی مفاد نہیں، وکلا تنظیموں کا مفاد آئین کا تحفظ اور عدلیہ کی آزادی ہے، یہ بھول جائیں کہ یہ کسی جج کا مقدمہ ہے۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ریفرنس مکمل خارج کردیں، ہمارے لئے یہ بڑا اھم معاملہ ہے، بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کا عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے، اللہ کے سامنے جوابدہ اور آئین و قانون کے پابند ہیں۔ ان شاء اللہ اپنا کام آئین اور قانون کے مطابق کریں گے۔ مشاورت کے لئے وقت چاہیے ہوگا۔

وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے کردار پر حملہ قابل قبول نہیں۔ خالی کاغذ کو ریفرنس بنا کر سپریم جوڈیشل کونسل بھیجا گیا۔ آخر جسٹس قاضی فائز عیسی کا انتخاب کیوں کیا گیا۔

جہانزیب عباسی اسلام آباد میں نجی ٹی وی سے منسلک صحافی ہیں جو سپریم کورٹ سے رپورٹ کرتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے