پاکستان

ریفرنس خارج، جے آئی ٹی بنا دی

جون 19, 2020

ریفرنس خارج، جے آئی ٹی بنا دی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف صدارتی ریفرنس کو خارج کر دیا ہے تاہم ٹیکس سے متعلق معاملات کو زندہ رکھا ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں ازخود کارروائی ایف بی آر کے فیصلے کی روشنی میں ہوگی۔

جمعے کو سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا مختصر فیصلہ سنایا جس سے جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ ذور جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایک حد تک اختلاف کیا۔

تینوں جج صاحبان نے اختلافی نوٹ تحریر کیے

اکثریتی فیصلہ سات تین کے تناسب سے سنایا گیا

اکثریتی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کردہ سپریم جوڈیشل کونسل کا شوکاز نوٹس ختم کر دیا گیا اور صدارتی ریفرنس خارج کیا گیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس فیصل عرب اکثریتی فیصلہ دینے والے ججز میں شامل

جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی اکثریتی فیصلہ دیا

جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین نے اکثریتی فیصلہ دیا

ایف بی آر ساٹھ دنوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہل خانہ کی جائیدادوں کا معاملہ حل دیکھے، عدالت

دو ماہ میں ایف بی آر فریقین کو نوٹسز جاری کر کے کاروائی کا آغاز کرے، عدالت

کسی فرد کے بیرون ملک ہونے کے باعث کاروائی کو موخر نہیں کیا جائے گا، عدالت

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ویڈیو لنک میں دکھائے گئے تمام دستاویزات ایف بی آر میں پیش کرے، اکثریتی فیصلہ

فریقین کو نوٹسز درخواست گزار جج کی اسلام آباد کی رہائش گاہ پر بھیجے جائیں، عدالت

75 دنوں میں چیئرمین ایف بی آر تمام کاروائی مکمل کر کے معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجے، اکثریتی فیصلہ

ایف بی آر رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل ازخود نوٹس کا استعمال کر سکتی ہے، اکثریتی فیصلہ

سو دنوں میں کاروائی مکمل نہ کرنے پر چیئرمین ایف بی آر سپریم جوڈیشل کونسل کو وجوہات سے آگاہ کرے گا، عدالت

جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا

پاکستان کے آئین میں عدلیہ کی خودمختاری کو مکمل تحفظ حاصل ہے، مختصر اختلافی نوٹ

آئین پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مساوی برتاؤ کی بات کرتا ہے، مختصر اختلافی نوٹ

آئین پاکستان میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ یا کوئی جج یا کوئی انفرادی شخص یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں، اختلافی نوٹ

کسی جج کے خلاف کاروائی کے لیے سپریم کونسل کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، اختلافی نوٹ

جج کو بھی آئین پاکستان کے تحت حقوق دیئے گئے ہیں، اختلافی نوٹ

آئینی درخواست 17/2019 ناقابلِ سماعت نہیں، جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے