کالم

کیا آپ کا بچہ بھی پورن دیکھتا ہے؟

جون 24, 2020 4 min

کیا آپ کا بچہ بھی پورن دیکھتا ہے؟

Reading Time: 4 minutes

(دوسرا حصہ)
اگر آپ کو ایک بار فحش مواد دیکھنے کا شوق پیدا ہو جائے تو یہ رکتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے اور آپ کو اس کی لت لگ جاتی ہے۔ پورن انڈسٹری نے اس فحش مواد کو مختلف درجوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔
ساری فحش سائٹس پر 18+ درج ہوتا ہے لیکن اِن سائٹس کا وزٹ کرنے والے کیا واقعی ہی 18+ ہوتے ہیں؟
انٹرنیٹ سیفٹی کے مطابق آج کل تقریبا 10 سال کی عمر میں بچوں کے پاس کسی نہ کسی صورت میں موبائل فون موجود ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق 11 سے 13 برس کے بچے بھی انٹرنیٹ کی فحاشی سے متاثر ہوکر خود بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کا حصہ بن جاتے ہیں، 13 سال کی عمر تک کے بچوں کو کہیں نہ کہیں ایسا مواد موصول ہو جاتا ہے یا پھر وہ کسی اور کو بھیجتے ہیں۔


سائبر سیف آئرلینڈ کی ریسرچ کے مطابق 8 سے 13 کی عمر کے 43 فیصد بچے انٹرنیٹ پر غیروں سے بات کرتے ہیں، 8 سال کے 36 فیصد اور 10 سال کے 43 فیصد لڑکے 18+ گیمز کھیلتے ہیں اور ایسا جنسی مواد ان کے سامنے ہوتا ہے جو اس عمر کے لیے مناسب نہیں ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ گیمز، انٹرنیٹ اشتہارات اور ویڈیوز کی مد میں کس قسم کے مواد تک آپ کے بچوں کی رسائی ہے؟
کیا موبائل کے ساتھ انٹرنیٹ کی دستیابی سے آپ کا بچہ اس سب محفوظ ہے؟
فحش مواد دیکھنے سے بچوں پر کون سے مضر صحت اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی سائیکالوجسٹ سدرہ اختر کہتی ہیں کہ جب بچے فحش مواد دیکھتے ہیں تو ان میں Pre-Maturity آ جاتی ہے، وقت سے پہلے بلوغت کہہ لیجیے، جو کہ بعد میں Sexual Frustration کا باعث بنتا ہے، فحش مواد دیکھنے والے بچوں کا جب سی ٹی سکین یا ایم آر آئی کیا گیا تو دیکھا گیا کہ ان کا برین سائز Shrink ہو جاتا ہے، ان کی ساخت اور فزیالوجی دونوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، بہت سے بچے فحش مواد دیکھ کر Masturbation کی طرف چلے جاتے ہیں اور بعد میں’گلٹ فیلنگز‘ انھیں نفسیاتی طور پر متاثر کرتی ہیں، جسم میں کچھ ایسے ہارمونز ہوتے ہیں جو عمر کے ساتھ ہی بننا بہتر رہتے ہیں اگر عمر سے پہلے وہ بننے لگ جائیں تو موڈ پر کافی اثر انداز ہوتے ہیں۔


ماہر نفسیات سدرہ اختر یہ بھی کہتی ہیں کہ یہ بات توجہ طلب ہے کہ جو کارٹون بچوں کو دکھائے جا رہے ہیں ان میں کس قسم کی ڈریسنگ کی جاتی ہے۔ جب ماں باپ بچوں کو Sleeveless لباس پہنائیں گے تو وہ بچی بڑے ہو کر کیسے دوپٹہ لے گی، ہمارے معاشرے میں نہ تو اخلاقی اور نہ ہی Psychological ڈویلپمنٹ پر کام کرتے ہیں۔


سمیرا راجپوت جو کہ بلاگر بھی ہیں کہتی ہیں کہ ہمیں بچوں کو سیکس ایجوکیشن دینے کی ضرورت نہیں صرف ’گُڈ اور بیڈ ٹچ‘ کی پہچان کرانا ضروری ہے۔


ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں واٹس ایپ اور فیس بک جو فحش مواد کے گروپس موجود ہیں ان میں 16 سے 24 سال کی عمر کے زیادہ افراد کی دلچسپی عمر رسیدہ خواتین میں نظر آتی ہے۔ وجہ ہے انٹرنیٹ پر فحش مواد اور پھر ویسے ہی جسم کی خواہش ، فحش مواد بنانے والی سائٹس خاص کو جسم کے نجی حصوں کی خوبصورت شیپ بنا کر دیکھنے والوں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں جہاں معاشرہ قدامت پسند ہے شادی سے قبل غیر فطری جنسی عمل کی طرف رجحان اس خوف کی وجہ سے بڑھتا ہے کہ شادی کے بعد مسائل پیدا نہ ہوں۔

والدین کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کے انٹرنیٹ پر گزرے وقت پر نظر رکھیں کیونکہ ذمہ داری پوری کرنا پچھتانے سے بہتر ہے۔ کوشش یہ بھی کی جانی چاہیے کہ بچے بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے قبل کوئی بھی ایسی ڈیجیٹل ڈیوائس استعمال نہ کریں جو گھر والوں کی پہنچ میں نہ ہو۔


یورپ میں بچوں کو جنسی تعلیم بہت چھوٹی کلاسز سے دینی شروع کر دی جاتی ہے جس کی وجہ یہ بنتی ہے کہ بچے اپنی عمر سے کئی گنا زیادہ بڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ایسا سب کچھ کرنے کا سوچتے ہیں یا کرتے ہیں جو ان کی عمر کے مطابق بہتر نہیں ہوتا۔

ایک خاص عمر کے بعد بچوں کو جسم میں ہونے والی جنسی تبدیلیوں کے بارے میں بتانا بھی ضروری ہے اگر نہیں بتایا گیا تو ان کو یہ تعلیم فحش ویب گاہیں دیں گی جن کے اثرات انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں،
ایک اور مسئلہ ہے کہ سیکس ایجوکیشن دے گا کون؟ کیا کالج کے اساتذہ دیں گے یا یونیورسٹی کے ابتدائی دور میں ایسا کوئی مضمون پڑھایا جائے گا ؟ یہاں پر مسئلہ دوسرا پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہے استاد و طالبعلم کا جسمانی تعلق، گو کہ ایسی تعلیم دینے والے اساتذہ کی ذمہ داری بھاری ہوتی ہے لیکن کہیں کہیں طلباء بھی اساتذہ میں اتنی دلچسپی لیتے ہیں کہ بات جنسی عمل تک پہنچ جاتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں ایسے کیسز سامنے آئے جن میں اساتذہ کی جانب سے طلبہ خاص کر لڑکیوں کو جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے حکومتی سطح پر ایک پالیسی ترتیب دی جائے تاکہ ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔
پاکستان میں نجانے کتنے فیصد ایسے خاندان ہیں جن کے بچوں کو تو انٹریٹ کی غلط استعمال کی زیادہ اور صحیح استعمال کی بہت کم سوجھ بوجھ ہے جبکہ ان کے والدین کو تو اس حساس معاملے کی سرے سے سمجھ ہی نہیں ۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے