پشاور پولیس نے شہری کو ننگا کرکے ویڈیو بنائی، پھر وائرل کی
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے میں ایک شہری کو برہنہ کر کے ویڈیو بنائی اور پھر اس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔
صوبائی پولیس سربراہ ثنا اللہ عباسی نے گزشتہ ہفتے ہونے والے تین مبینہ پولیس مقابلوں پر اٹھنے والے سوالات اور شہری کو تھانے میں برہنہ کرنے پر چپ سادھ رکھی ہے جس کے بعد وزیراعلیٰ محمود خان نے واقعے کا نوٹس لے کر ملوث اہلکاروں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
مقامی صحافیوں کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک افغان مہاجر شہری رفیع اللہ عرف عامرے نے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ایک ویڈیو بنا کر پولیس حکام کو گالیاں دی تھیں جس کے بعد پشاور کے تہکال تھانے کے اہلکاروں نے مذکورہ شخص عامر عرف عامرے کو گرفتار کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔
پولیس اہلکاروں نے رفیع اللہ عرف عامرے کو برہنہ کر کے اس کی ویڈیو بنائی جس میں اہلکار اس سے پشتو میں پوچھ رہے ہیں کہ تمہاری بہن کے ساتھ کس کس نے بدکاری کی اور اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ جواب میں پولیس اہلکاروں کی جانب اشارہ کرے۔
ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا جس پر اندرون ملک، افغانستان اور دنیا بھر کے پشتو بولنے والے حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل آ رہا ہے۔
پشاور بار ایسوسی ایشن نے ویڈیو کی سخت مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پشاور کے شہریوں نے پریس کلب کے سامنے واقعہ کے خلاف احتجاج کی کال بھی دی ہے۔
واضح رہے کہ پشاور اور کوہاٹ میں گزشتہ ہفتے دو مبینہ پولیس مقابلوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ان کو جعلی قرار دیا جا رہا ہے۔
جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کوہاٹ اور پشاور کے پولیس مقابلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی بڑی تعداد عدلیہ سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب تھانہ تہکال میں اے ایس آئی ظاہر اللہ خان، سپاہی توصیف اور سپاہی نعیم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جس تھانے میں شہری کو برہنہ کر کے ویڈیو بنائی گئی اسی کے ایس او ایچ کی مدعیت میں اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے لکھا ہے کہ شہری نے پولیس کو ویڈیو میں گالی دی تو پولیس نے اس کو ننگا کر کے ویڈیو بنا ڈالی۔ اب شہری کو ننگا کرنے والوں کو صرف معطل کرنے کی سزا کافی ہوگی؟
ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ اگر مذکورہ شہری کو سمجھایا جاتا تو شاید وہ گالیاں دینے پر معافی مانگ لیتا مگر پولیس تشدد اور برہنہ کرنے کے بعد اب اس کا پورا خاندان ساری زندگی نظام اور وردی سے نفرت کرے گا۔
سوشل میڈیا پر شہریوں کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل ثنا اللہ عباسی پر تنقید کر رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نئے آئی جی کے آنے سے صوبائی پولیس کی کارکردگی بدتر ہو گئی ہے اور اہلکاروں کے احتساب کا کوئی نظام نہیں رہا جس کی وجہ سے جعلی پولیس مقابلے اور شہریوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

