پاکستان

بیرون ملک سے بیروزگار ہو کر آنے والوں کا کیا بنے گا؟

جون 25, 2020

بیرون ملک سے بیروزگار ہو کر آنے والوں کا کیا بنے گا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت بلکل بیٹھ چکی ہے، صحت اور تعلیم کا شعبہ بہت نیچے چلا گیا ہے، لاتعداد گریجویٹس بے روزگار ہیں جن کو کھپانے کا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

جمعرات کو عدالت عظمیٰ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے اور پوچھا کہ اتھارٹی نے صرف ایک نجی کمپنی کو این -95 ماسک بنانے کی سہولت کیوں فراہم کی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ بیرون ملک سے ایک لاکھ پاکستانی لیبر واپس آ رہی ہے جسے 14 دن کے لیے قرنطینہ کرنے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں، حکومت ان افراد کو کہاں کھپائے گی؟ حکومت کے پاس کوئی معاشی منصوبہ ہے تو سامنے لائے، حکومت کوئی کام نہیں کر رہی بلکہ بیان بازی کر رہی ہے، حکومت کی بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔

عدالتی سوالات پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کو قانونی تحفظ حاصل ہے، ادویات کی منظوری ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی دیتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ باہر سے منگوائی جانے والی ادویات کس کو دی جاتی ہیں، ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی نے کہا ہے کہ یہ درآمد کی گئی ادویات جس مریض کو دی جائیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ دوا تشویشناک حالت کے مریضوں کے لئے ہے، اگر مریض کے کوائف اکٹھے کرنے شروع کر دیں گے تو اتنی دیر میں مریض دنیا سے چلا جائے گا، بہتر ہوتا کوائف اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سرکاری اسپتالوں کو دی جاتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دستاویز کے مطابق نجی کمپنی کے لئے مشینری این ڈی ایم اے نے اپنے جہاز پر منگوائی، الحفیظ نامی کمپنی نے مشینری این 95 ماسک بنانے کے لئے منگوائی، کیامشینری کی کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشینری منگوانے میں این ڈی ایم اے نے نجی کمپنی کو سھولت فراہم کی، مشینری پر کسٹم یا ٹیکس نجی کمپنی نے خود جمع کروائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح تو یہ نجی کمپنی این 95 ماسک بنانے والی واحد کمپنی بن گئی ہے، کیا ایسی سہولت فراہم کرنے کے لئے این ڈی ایم اے نے کوئی اشتہار دیا؟ این ڈی ایم اے نے صرف ایک نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی، ہم چاہتے ہیں ہر چیز میں شفافیت ہو۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ این ڈی ایم اے اسی نجی کمپنی سے این 95ماسک نہیں خرید رہی ہے، فلائٹس کی بندش کی وجہ سے این ڈی ایم اے نے کمپنیوں کو یہ سہولت دی۔ این ڈی ایم اے کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ 28 کمپنیوں نے مشینری باہر سے منگوانے کے لئے اتھارٹی سے رابطہ کیا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ 28 کمپنیاں پہلے سے چل رہی تھیں، پھر مشینری منگوانے کی ضرورت کیا تھی؟ این ڈی ایم اے کے نمائندے نے جواب دیا کہ یہ نجی کمپنیاں این 95 ماسک نہیں بنا رہی تھیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سندھ حکومت کی جانب سے بجٹ میں لگژری گاڑیوں کے لیے مختص چار ارب روپے عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہیں دینے کو پیسے نہیں، چار ارب کی لگژری گاڑیاں کیسے منگوا رہے ہیں؟ ہم دیکھتے ہیں یہ چار ارب روپیہ کیسے سرکاری ملازمین اور لیڈروں کی عیاشیوں پر خرچ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ٹڈی دل کے سپرے کے لیے جہازوں کے پائلٹ باہر سے کیوں منگوا رہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ محکمے کا کہنا ہے کہ وہ پائلٹس کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت تربیت دینے کا مطلب ایسا ہی ہے کہ بھوک لگنے پر گندم بونے جایا جائے۔ ہم 44 سال سے عالمی تنظیم کے رکن ہیں آپ کو پہلے سے تیار رہنا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کے لیے منگوائی جا رہی ہیں۔ س طرح کی لگژری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دینگے، کراچی کا نالہ صاف کے کرنے کے لئے پیسے نہیں،4 ارب کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں، کیا پنجاب، کے پی، بلوچستان بھی ایسی گاڑیاں منگوا رہے ہیں؟

سرکاری وکلا نے کہا کہ کے پی اور پنجاب ایسی لگژری گاڑیاں نہیں منگوا رہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے