پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پر سپریم کورٹ کا نوٹس
سپریم کورٹ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر جہاز اڑانے والے پائلٹس کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو زاتی حیثیت سے طلب کر لیا۔عدالت نے کہاڈی جی سول ایوی ایشن،پی آئی اے،ایئر بلیو اور سرین ایئر لائن کے سربراہان پائلٹس کے تعلیمی قابلیت،لائسنس اور مکمل کوائف کے ہمراہ زاتی حیثیت سے پیش ہو وضاحت دیں۔
عدالت نے این ڈی ایم اے اور پنجاب حکومت کی کارکردگی پر بھی عدم اعتماد کا اظہارکردیا۔چیف جسٹس نے کہا پوری حکومت کو بیس لوگ یرغمال نہیں بنا سکتے،لگتا ہے نیب کی طرح این ڈی ایم اے متوازی ادارہ بن جائے گا، یہ ساری چیزیں عوام اور پاکستان کیلئے تباہ کن ہیں۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ میں کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں چار رکنی خصوصی بنچ نے کی۔عدالت نے طیارہ حادثہ عبوری رپورٹ پر بھی سوال اٹھا دیئے۔چیف جسٹس نے کہا اسمبلی کے فلور پر ایک وزیر نے کہا جس کا دل چاہتا ہے پائلٹ کا لائسنس لے لیتا ہے، لگتا ہے سول ایوی ایشن والے پیسے لے کر جہاز چلانے کا لائسنس دیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا جعلی لائسنس پر جہاز اڑانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی چلتا پھرتا میزائل ہو،جعلی لائسنس لے کر جہاز میں لوگوں کو بٹھا کر اڑنا اس میزائل جیسا ہے جو کہیں بھی جا کر پھٹ جائے، ہمیں حکومت کی رپورٹ پر حیرانگی ہوئی،رپورٹ میں کہا گیا جہاز میں کوئی نقص نہیں تھا،حیرت کی بات ہے 15 سال پرانا جہاز اڑایا گیا،رپورٹ میں سارا ملبہ سول ایوی ایشن پر ڈال دیا گیا،سول ایوی ایشن والے وہی ہیں جو پائلٹس کو لائسنس دیتے ہیں، یہ حیران کن ہے کہ جعلی لائسنس کی بنیاد پر جہازوں کی کمرشل پروازیں اڑانے کی اجازت دی گئی۔
سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے پوچھا این ڈی ایم کو چائنہ کی طرف سے ٹڈی دل کیخلاف تین لاکھ لیٹر سپرے دیا،ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے صرف 8 ہزار سات سو پچاس لیٹر سپرے استعمال کیا گیا،جب دو لاکھ نوے ہزار لیٹر سپرے موجود تھا تو ایک لاکھ 70 ہزار لیٹر مزید سپرے کیوں منگوایا گیا۔این ڈی ایم اے کے حکام سے کوئی جواب نہ بن پایا اور وہ خاموش رہے۔
چیف جسٹس نے کہا نہیں معلوم این ڈی ایم اے کیسے کام کررہا ہے،این ڈی ایم اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کررہا ہے،نہیں معلوم این ڈی ایم اے کے اخراجات پر کوئی نگرانی ہے یا نہیں،این ڈی ایم اے کے کام میں شفافیت نظر نہیں آرہی،نجی کمپنی کا مالک دو دن میں ارب پتی بن گیا ھوگا،کرونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا ہمیں یاد ہے ڈالر کبھی تین روپے کا ہوتا تھا،عوام کوروٹی،پیٹرول، تعلیم،صحت اور روزگارکی ضروررت ہے، پیٹرول،گندم،چینی کے بحران ہیں،کوئی بندہ نہیں جو اس بحران کو دیکھے،فیصل آباد کو علاقے رضاآباد سے گٹر سے نکلنے والا پانی پورے شہر میں پھیلا ہوا ہے۔جسٹس قاضی امین نے کہا کیا پنجاب میں کوئی وزیر اعلی اور حکومت ہے،پنجاب میں زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔۔چیف جسٹس نے کہا کیا پنجاب میں کوئی حکومت ہے؟بارش سے لا ہور میں کتنی بستیاں ڈوب گئیں؟کتنوں کو کرنٹ لگا،لوگوں کو بڑی امید تھی اس لئے تبدیلی لائے،پوری حکومت کو بیس لوگ یرغمال نہیں بنا سکتے،لگتا ہے نیب کی طرح این ڈی ایم اے متوازی ادارہ بن جائے گا،یہ ساری چیزیں عوام اور پاکستان کیلئے تباہ کن ہیں۔
نمائندہ این ڈی اے نے کہا اگلے دو ماہ صورتحال سنگین ہو سکتی ہے اس لیے مزید سپرے منگوایا گیا۔چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کے نمائندے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے جاپان، چائنہ اور برطانیہ سے بھی مدد مل رہی ہے، اتنے سارے ملک مدد کر رہے ہیں اس کے باوجود ٹڈی دل کنٹرول نہیں ہورہا۔
این ڈی ایم اے کے نمائندے نے کہا ہم تکنیکی تخمینہ لگا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا جب تک تکنیکی تخمینہ لگے گا ٹڈی دل ساری فصل کھا جائے گی، کہیں ایسا نہ ہو انتظار کے چکر میں ٹڈی دل کی نئی نسل آجائے گی، سپرے کے لیے دستیاب پانچ جہاز پائلٹس نہ ہونے کے سبب غیر فعال ہیں۔
کیس کی سماعت کے دور اچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ملک کی معیشت بالکل بیٹھ چکی ہے،صحت اور تعلیم کا شعبہ بہت نیچے چلا گیا ہے،لاتعداد پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں جن کو کھپانے کا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں، ایک لاکھ لیبر مختلف ممالک سے واپس آ رہی ہے جسے چودہ دن کے لیے قرنطینہ کرنے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں،حکومت ان مزدوروں کو کہاں کھپائے گی،حکومت کے پاس کوئی معاشی منصوبہ ہے تو سامنے لائے،حکومت کوئی کام نہیں کر رہی بلکہ بیان بازی کر رہی ہے،حکومت کی بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔
اٹارنی جنرل نے کہا این ڈی ایم اے کو قانونی تحفظ حاصل ہے، ادویات کی منظوری ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی دیتی ہے۔جسٹس اعجا ز الااحسن نے کہا باہر سے منگوائی جانے والی ادویات کس کو دی جاتی ہیں،ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی نے کہا ہے کہ یہ درآمد کی گئی ادویات جس مریض کو دی جائیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے، یہ دوا تشویشناک حالت کے مریضوں کے لئے ہے، اگر مریض کے کوائف اکٹھے کرنے شروع کردینگے تو اتنی دیر میں مریض دنیا سے چلا جائے گا، بہتر ھوتا کوائف اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سرکاری اسپتالوں کو دی جاتی۔
چیف جسٹس نے کہا دستاویز کے مطابق نجی کمپنی کے لئے مشینری این ڈی ایم اے نے اپنے جہاز پر منگوائی،الحفیظ نامی کمپنی نے مشینری این 95 ماسک کے لئے منگوائی،کیامشینری کی کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا مشینری منگوانے میں این ڈی ایم اے نے نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی،مشینری پر کسٹم یا ٹیکس نجی کمپنی نے خود جمع کروائی۔چیف جسٹس نے کہا اس طرح تو یہ نجی کمپنی این 95 ماسک بنانے والی واحد کمپنی بن گئی ہے،کیا ایسی سہولت فراہم کرنے کے لئے این ڈی ایم اے نے کوئی اشتہار دی؟این ڈی ایم اے نے صرف ایک نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی، ہم چاہتے ہیں ہر چیز میں شفافیت ہو۔
اٹارنی جنرل نے کہا این ڈی ایم اے اسی نجی کمپنی سے این 95ماسک نہیں خرید رہی ہے۔نمائندہ این ڈی ایم اے نے کہا 28 کمپنیوں نے مشینری باہر سے منگوانے کے لئے این ڈی ایم اے سے رابطہ کیا۔چیف جسٹس نے پوچھا یہ 28 کمپنیاں پہلے سے چل رہی تھیں، پھر مشینری منگوانے کی ضرورت کیا تھی؟۔نمائندہ این ڈی ایم اے نے جواب دیا یہ نجی کمپنیاں این 95 ماسک نہیں بنا رہی تھیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے سندھ حکومت کی جانب سے بجٹ میں لگڑری گاڑیوں کے لیے مختص چار ارب روپے سپریم کورٹ میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔چیف جسٹس نے کہا لوگوں کے پاس کھانے کے لئے لئے کچھ نہیں،تنخواہیں دینے کو پیسے نہیں چار ارب کی لگڑری گاڑیاں کیسے منگوا رہے ہیں؟ ہم دیکھتے ہیں یہ چار ارب روپیہ کیسے سرکاری ملازمین اور لیڈروں کی عیاشیوں پر خرچ ہوتا ہے، آپ ٹڈی دل کے سپرے کے لیے جہازوں کے پائلٹ باہر سے کیوں منگوا رہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا محکمے کا کہنا ہے کہ وہ پائلٹس کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا اس وقت تربیت دینے کا مطلب ایسا ہی ہے کہ بھوک لگنے پر گندم بونے جایا جائے، ہم چوالیس سال سے عالمی تنظیم کے رکن ہیں آپ کو پہلے سے تیار رہنا چاہیے تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آئین پاکستان کا فائدہ آج تک عام آدمی کو نہیں پہنچا، بچہ آئین سے استفادہ حاصل کرنے کے انتظار میں بوڑھا ہوگیا، لیکن آئین کا پھل صرف چند لوگ کھا رہے ہیں جن میں ہم بھی شامل ہیں، لیکن اس میں عام آدمی شامل نہیں۔
سپریم کورٹ نے این ڈی این اے سے این 95 ماسک کی خریداری کی تفصیلات طلب کر تے ہوئے این 95 ماسک کی تیاری کیلئے درآمد مشینری کی تفصیلات بھی دوہفتوں میں طلب کر لیں۔عدالت نے قرار دیا الحفیظ کمپنی سے ادائیگی کی تفصیلات اور ذرائع آمدن بھی فراہم کی جائیں۔عدالت نے کہا این ڈی ایم اے کی جانب سے درآمد کی جانے والی ادویات کی تفصیلات فراہم کی جائیں،سندھ حکومت گجر نالے کی صفائی کیلئے رقم کا بندوبست کرے۔عدالت نے سندھ حکومت ترقیاتی کاموں کی بجائے چار ارب کی خطیر رقم گاڑیوں کی خریداری پر وضاحت بھی مانگ لی۔

