سندھ حکومت کی جاری کردہ جے آئی ٹی رپورٹ اصلی نہیں: علی زیدی
پاکستان کے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ عذیر بلوچ سے تفتیش کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی سندھ حکومت کی رپورٹ اصلی نہیں۔
منگل کو اسلام آباد میں وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔
انہوں نے کہا سندھ حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ 35 صفحات پر مشتمل جب کہ اصل رپورٹ 43 صفحات کی ہے، ایک جے آئی ٹی پر 4 اور دوسری پر 6 لوگوں کے دستخط ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہم اس ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے آئے ہیں۔ اس قبل ادارے بنانے کی بجائے ذات کی بات کرتے رہے ہیں۔ جب بھی جوائنٹ انوسٹگیشن ٹیم بنائی جاتی ہے ان کی تحقیقات کو سامنے لانا چاہیے۔ قانون کی پاسداری کی بجائے ذاتی سلطنت بنا لی گئی۔
وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں صرف جرائم کا ذکر کیا گیا، یہ نہیں بتایا گیا کس کے کہنے پر جرم ہوئے، عزیر بلوچ نے کہا آصف زرداری اور فریال تالپور کے کہنے پر سر کی قیمت ختم کی گئی،علی زیدی کا کہنا تھا چیف جسٹس گلزار احمد مجھ سے جے آئی ٹی رپورٹ مانگیں، چیف جسٹس کراچی کے ہیں، انہوں نے خود بھی دیکھا شہر کے کیا حالات ہیں، چیف جسٹس تمام دستخط کنندہ کو بلائیں اور رپورٹ سے متعلق پوچھیں۔
وفاقی وزیر بحری امور نے کہا جے آئی ٹی پر کچھ دنوں سے بات ہو رہی تھی، اللہ اللہ کر کے سندھ حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ پبلک کر دی، جے آئی ٹی میں ایک شخص متعدد قتل کا اعتراف کرتا ہے، جے آئی ٹی میں یہ چیز نہیں کہ کس کے کہنے پر کیا کارروائی کی گئی، نبیل گبول نے گزشتہ رات کہا جے آئی ٹی رپورٹ مکمل نہیں، عزیر بلوچ کا 164 کا بیان حلفی سب نے دیکھا، عزیر بلوچ نے کہا خدشہ ہے انکشاف کے بعد مجھےمار دیا جائے گا۔
ساٹ علی زیدی
علی زیدی کا مزید کہنا تھا بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ مشکل سے ریلیز کی گئی، بلدیہ فیکٹری جے آئی ٹی پورٹ میں پولیس کی نا اہلی کا ذکر کیا گیا، رضوان احمد کی رپورٹ چنیسر گوٹھ کے جرائم پیشہ افراد پر مشتمل، 2017 میں چیف سیکریٹری سے جے آئی ٹی رپورٹ مانگی۔

