مسز فائز عیسی کی فراہم کردہ منی ٹریل میں نیا کیا؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے ایف بی آر میں جمع کرایا گیا تحریری جواب اور منی ٹریل پر مزتمل دستاویزات میڈیا کو فراہم کردیں۔ دستاویزات میں سال 2018 اور 2019 کے ٹیکس گوشواروں میں لندن جائیدادوں کی تفصیلات کے علاوہ بنکوں کے زریعے رقوم کی منتقلی اور زرعی زمین کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو زوالفقار احمد کو جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا ہے کہ والد کی وفات کے پیش نظر ایف بی آر کا 25 جون کا نوٹس وصول نہیں کیا، ایف بی آر کا کھلے عام میرے گھر پہ نوٹس چسپاں کرنا ناگوار گزرا، عمران خان جیسے ایک ہی زہنیت کے لوگ مجھے اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ٹی وی پر ایک ٹیکس ماہر نے آکر بتایا پانچ سال بعد ایف بی آر معلومات نہیں پوچھ سکتا، میں خود ٹیکس ایڈوائزر نہیں لے سکتی، مجھے بطور سینیٹر افسر بتائیں کیا ٹی وی میں کہی گئی بات درست ہے؟ میں نے اپنے وکیل کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کھلوایا، مجھے وکیل نے کہا کہ غیر ملکی اکاؤنٹ کھولنے پر کوئی نہیں پوچھ سکتا، مجھے وہ قانون بتائیں جس کی وکیل نے مجھے غلط تجویز کی۔
تحریری جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا مجھ سے ٹیکس سال دو ہزار اٹھارہ کے نوٹس میں دو ہزار چار اور دو ہزار تیرہ کی جائیداد کا کیوں پوچھا جا رہا ہے، مجھے یقین ہے عمران خان اور اُنکے ہم خیال لوگ ٹی وی پر آکر کہیں گے جائیدادوں کا جواب نہیں دیا جارہا، میرے خلاف ٹی وی پر جھوٹا پراپگنڈہ کیا جائے گا، میں وہ تمام تفصیلات فراہم کروں گی جن کا مجھے یاد ہے، ایف بی آر نے نوٹس میں بے معنی الفاظ استعمال کیے،عمران خان کے ہم خیال گروہ نے یہ جھوٹ پھیلایا کہ لندن جائیدادیں میرے خاوند کی ہیں، ایف بی آر ریکارڈ کے مطابق میرا گھر اسلام آباد میں نہیں ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر کو منی ٹریل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ آج سے سولہ سال پہلے 2004 میں پانچ سو سکوائر فٹ کا ون بیڈ اپارٹمنٹ دو لاکھ 36 ہزار پاؤنڈز میں خریدا، لندن کی یہ پراپرٹی میری بیٹی کے نام پر ہے، جب میں کوئٹہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی اس وقت ہم پر دہشت گرد حملہ ہوا، اس وقت میری بیٹی اور بیٹا اپنے بچوں کیساتھ لندن میں رہائش پذیر تھے، میرا بیٹا جائیداد کی خریدوفروخت کے کاروبار سے منسلک رہا، میرا داماد برطانیہ کی وزارت انصاف میں کام کرتا تھا، میری بہو لندن میں مالیاتی تجزیہ کار کے طور پر کام کرتی رہی ہے، میرے دونوں بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، مجھے خوف تھا کہیں میرے بچوں پر دوبارہ دہشتگردی کا حملہ نہ ہو جائے، بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے لندن کے مضافاتی سستے علاقے میں دو جائیدادیں خریدنے کیلئے مدد فراہم کی، میرے شوہر بچوں کو بیرون ملک بھیجنے کے حق میں نہیں تھے، میں نے شوہر کو سمجھایا اگر ہم مارے بھی جائیں تو کم از کم ہمارے بچے تو زندہ رہیں گے۔
ایف بی آر کو پیش کردہ تحریری جواب کے مطابق دو ہزار تیرہ میں اپنی بیٹی کو دو لاکھ 70 ہزار پاؤنڈز کے عوض لندن جائیداد خریدنے میں مدد کی، یہ جائیداد میرے اور میری بیٹی کے نام پر ہے، میری بیٹی اپنے شوہر کیساتھ وہاں رہائش پذیر ہے، دو ہزار تیرہ میں دو لاکھ 45 ہزار پاؤنڈز میں تیسری لندن جائیداد خریدنے کیلئے بیٹے کی مدد کی، اس پراپرٹی میں میرا بیٹا رہائش پذیر ہے، لندن جائیداد ہم نے اپنے اور بچوں کے نام رکھی، اگر ملکیت چھپانا چاہتے تو آسانی کے ساتھ آف شور کمپنی کے ذریعے ملکیت چھپا سکتے تھے، اگر آپ کو یقین نہ آئے تو عمران خان اور ان کے ہم خیال ٹولے سے پوچھ لیں کہ کیسے بیرون ملک جائیدادوں کی ملکیت چھپائی جاتی ہے، ہم سے منی ٹریل کا پوچھا جا رہا ہے مجھے نہیں پتا یہاں منی ٹریل کاکیا مطلب ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تناظر میں وضاحت کی جائے کہ لفظ منی ٹریل کہاں لکھا ہوا ہے، منی ٹریل کی نشاندہی کی جائے تو ہم آسانی کے ساتھ جائیدادوں کا جواب دے سکتے ہیں۔
جواب کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا ایف بی آر کا پرانا ریکارڈ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں کراچی امریکن سکول میں پڑھاتی رہی، کراچی امریکن اسکول میں شادی سے قبل پڑھاتی تھی، میری اسکول کی تنخواہ سے انکم ٹیکس کاٹا جاتا تھا، میں نے آر ٹی او کراچی کے پاس اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرانا شروع کیے،میرا وکیل میرے ٹیکس گوشوارے جمع کرانا تھا، کئی دہائیوں تک امریکن اسکول میں پڑھانے کے بعد میں نے استعفیٰ دے دیا، کراچی میں میں ایک جائیداد میں ایک دوست کے ساتھ شراکت داری تھی جسے ہم نے کرائے پر دیا، کراچی کی جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس دیتی رہی، جیکب آباد، ڈیرہ مراد جمالی اور نصیر آباد میں زرعی اراضی بھی ہے،میرے وکیل نے بتایا کہ زرعی زمین پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ایف بی آر نے مجھ سے لندن کی تین جائیدادوں کی فروخت کے معاہدے کی کاپی مانگی ہے،ایسی کوئی دستاویزات میرے پاس نہیں ہیں، لندن میں جائیداد کی خریدوفروخت کا تمام عمل وکیل کے ذریعے ہوتا ہے،لندن میں جائیداد خریدنے والا بیچنے والے کو پیسے نہیں دیتا، مجھے نہیں معلوم کہ وکیل نے جائیدادوں کی خریداری کے لیے کون سے دستاویزات بنائے، ایف بی ار لندن جائیدادوں کی "سیل ڈیڈ” طلب کر رہا ہے، لندن کی ایک جائیداد کی سیل ڈیڈ نہیں ہے۔
جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا میں نے لندن کی ایک جائیداد طویل عرصے کے لیے لیز پر حاصل کی جس میں میری بیٹی کا نام بعد میں شامل کیا گیا، مجھ سے لندن کی ہر جائیداد کے لیے سرمایہ کاری کا حجم پوچھا جا رہا ہے،ایف بی آر وضاحت کرے کہ وہ کیا پوچھنا چاہتا ہے، عمومی طور پر پاکستان میں جائیداد کی قمیت خرید اصل قیمت سے کم ظاہر کی جاتی ہے،قیمت خرید کم ظاہر کرنے کا مقصد ٹیکس سے بچنا یا حلال کی کمائی کی کمی ہوتا ہے، لندن میں جائیداد کی قمیت خرید کم ظاہر نہیں کی جاتی، میں نے لندن کی جائیدادوں کی خریداری کے لیے جو ادائیگی کی وہی ظاہر کی، میرے علم کے مطابق اگر جائیداد کی مالیت ڈھائی لاکھ پاؤنڈ سے کم ہو تو اس پر سٹیمپ ڈیوٹی لاگو نہیں ہوتی،میں برطانیہ میں موجود تمام جائیدادوں پر ٹیکس ادا کر رہی ہوں، جب کراچی میں رینٹ پر دی گئی جائیداد فروخت کی تو ٹیکس گوشوارے جمع کروانے بند کر دیئے۔
سرینہ عیسیٰ نے بتایا کہ ایف بی آر کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے کہ میں قابل ٹیکس آمدن پر انکم ٹیکس ادا کرتی رہی ہوں،2018 میں پاکستان میں قانون بنایا گیا کہ بیرون ملک جائیدادوں کو گوشواروں میں ظاہر کیا جائے، میں نے ایف بی آر کے نوٹس کا انتظار کیے بغیر نئے قانون پر عمل داری کے لیے ٹیکس وکیل سے رابطہ کیا، مجھے بتایا گیا کہ میرا آر ٹی او کراچی سے اسلام آباد ٹرانسفر کر دیا گیا ہے،میں نے 31 جنوری 2020 کو ڈاکٹر اشفاق سے رابطہ کیا لیکن جواب موصول نہیں ہوا، سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی مداخلت سے میرا آر ٹی او دوبارہ کراچی ٹرانسفر کر دیا گیا، 2018 میں میری قابل ٹیکس آمدن 40 لاکھ ستر ہزار آٹھ سو چونسٹھ روپے تھی، میں نے اس آمدن پر پانچ لاکھ 76 ہزار 540 روپے ٹیکس دیا، 2019 میں میری قابل ٹیکس آمدن 53 لاکھ 31 ہزار چھہتر روپے تھی، 2019 میں اس آمدن پر آٹھ لاکھ نو ہزار 970 روپے ٹیکس دیا، اگر اب مجھے بتائے بغیر دوبارہ آر ٹی او تبدیل کر دیا جائے تو پھر نوٹس کیسے جاری کیا جائے گا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے چیئرمین ایف بی آر کو اچانک عہدے سے ہٹانے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا خاتون چیئرمین ایف بی آر نوشین جاوید امجد کو ہٹا دیا گیا، یوں لگتا ہے جیسے سابقہ خاتون چیئرمین ایف بی آر نے ہم خیال ٹولے کے احکامات پر عمل کرنے کو تیار نہیں تھی،کیا پوری ایف بی آر کو سپریم کورٹ کا ایک جج کو ہٹانے کے کام پر لگا دیا گیا ہے، صرف تین ماہ کے لیے نیا چیئرمین ایف بی آر لگانا بلاشبہ "اوپر سے” ملنے والی ہدایات کا تسلسل ہے، رضاکارانہ طور پر آگے آ کر اپنی جائیداد ظاہر کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے یہ ٹولہ مجھ پر حملہ آور ہو رہا ہے،کیا ایسا اس لیے ہے کہ میں ایک خاتون ہوں اور یہ ٹولہ کسی خاتون کی معاشی خود مختاری کو برداشت نہیں کرتا،مجھے بتایا جائے کہ کتنی ایسی خواتین ہیں جو تنخواہ نہیں لے رہیں لیکن ٹیکس ادا کرتی ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے وزیراعظم کی آمدنی اور ٹیکس گوشواروں پر سوال اٹھا تے ہوئے کہا کیا ایف بی آر کو عمران خان سے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ مجھ سے کم ٹیکس کیوں دیتے ہیں، کم ٹیکس دینے کے باوجود عمران خان اتنی مہنگی جائیداد کیسے خریدتے ہیں، کم آمدنی کے باوجود عمران خان بنی گالہ کے تین سو کنال کے محل میں کیسے رہے ہیں؟کیا ایف بی آر کو عمران خان، مرزا شہزاد اکبر، سابق اٹارنی جنرل انور منصور اور سابق وزیر قانون فروغ نسیم سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے میرا پراپرٹی ریکارڈ غیرقانونی طور پر حاصل کرکے کے اوپن کیسے کیا،میں کسی کو ان معاملات میں گھسیٹنا نہیں چاہتی لیکن گزشتہ ایک سال سے مجھے مجرم کی طرح ہراساں کیا جا رہا ہے اور میری تضحیک کی جا رہی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا مجھے الزام نہ دیا جائے تو کیا میں عمران خان، عبد الوحید ڈوگر، شہزاد اکبر فروغ نسیم اور اشفاق احمد سے پوچھ سکتی ہوں کہ وہ اپنے اور بیوی بچوں کے گوشوارے کب ظاہر کریں گے، مجھے ان کے گوشواروں کی کاپی دی جائے اور بتایا جائے کہ انکم ٹیکس کب سے دینا شروع کیا، کیا ایف بی آر بھی ان سب کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے جیسے میرے ساتھ کیا جا رہا ہے، ریاست مدینہ کے قیام کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ایک ایک ٹیکس ادا کرنے والی خاتون کو اس کے سوالوں کا جواب دینے میں یہ لوگ خوشی محسوس کریں گے، مجھے امید ہے کہ وہ لوگ بتائیں گے کہ وہ اور ان کے بیوی بچے کتنا ٹیکس دیتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ ایف بی آر قانون کا مساوی اطلاق کر کے خود کو ان کا آلہ کار بننے کے تاثر کو زائل کرے گا،ایف بی آر نے جو معلومات مجھ سے پوچھیں وہ میں نے فراہم کر دیں۔
ایف بی آر کے تحریری جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ کیا میں اب پوچھ سکتی ہوں کی ایف بی آر کو مجھ سے یہ معلومات کیوں درکار تھیں،ایف بی آر نے کہا میں اپنے دفاع میں مزید دستاویزاتاور شہادتیں جمع کروا سکتی ہوں، ایف بی آر نے ابھی تک مجھے یہ نہیں بتایا کہ میں اپنے خلاف کس الزام کا دفاع کر رہی ہوں اس لیے میں آپ کی پیش کش سے استفادہ نہیں کر سکتی،برائے کرم مجھے بتایا جائے کہ مجھ پر کیا الزام ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر میں چودہ دستاویزات بھی جمع کروا دیں۔ان دستاویزات میں مالی سال دو ہزار اٹھارہ اور دو ہزار انیس کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔اسی طرح تحریری بیان کے ساتھ تفصیلات میں لندن جائیدادوں کی خریداری، رقوم کی بیرون ملک منتقلی سمیت منی ٹریل کی دستاویزات اور ریکارڈ کارڈ جمع کروا دیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے دو ہزار اٹھارہ اور دو ہزار انیس کے ٹیکس گوشواروں میں لندن جائیدادیں ظاہر کرنے کی تفصیل بھی ایف بی آر کو دے ہے۔
دوسری جانب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے میڈیا کو ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں انھو ں نے کہامجھے ہراساں کیا جاتا رہا میری تضحیک کی گئی، میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، مجھ پر الزام لگایا جارہا ہے،میں نوٹس وصول نہیں کررہی ہوں، حالانکہ 25جون کو نوٹس جب جاری کیا اسی روز میرے والد کی وفات ہوئی، نوٹس چسپاں کیا کیا جس سے میں نے خود کو مجرم محسوس کرنا شروع کر دیا ہے، عدالت سے استدعا کرتی ہوں کہ میرے اکاؤنٹ کی تفصیلات بات کسی کو نہ دی جائیں،میڈیا میں یہ پروگینڈاکیا گیا میڈیا میں کہا گیا میں چھڑی کیساتھ تیز چل رہی تھی،جیسے میں بہانا کر رہی تھی،مجھے مجبورا اپنا ایکسرے جاری کرنا پڑ رہا ہے،میری ایکسرے رپورٹ میڈیا پروپیگنڈے کی نفی کرتی ہے، مجھے میڈیا کے پروپیگنڈے سے دلی طور پر تکلیف پہنچی۔


