پاکستان

کل تک عزیر سب کی جان اور آج؟

جولائی 13, 2020

کل تک عزیر سب کی جان اور آج؟

عبدالجبار ناصر
آج کل کالعدم لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عزیر جان بلوچ سے تعلق سے انکار کا موسم ہے، بالخصوص تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی والے ایک دوسرے پر خوب حملے کر رہے ہیں، دوسرے کو مجرم اور خود کو پاک دامن قرار دینے میں مصروف ہیں، روز ایک سے زائد پریس کانفرنسوں اور دو طرفہ درجنوں بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کورونا وبا پر قابو پا لیا ہے اور عملاً فتح کا اعلان کر چکے ہیں اس لیے اب دیگر ‘مسائل’ نمٹانے کا وقت ہے۔

عزیر بلوچ سے کس کا کتنا تعلق تھا اور کس نے کتنا کام لیا ہے، اس کو جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس اور نہ ہی ہزاروں، سیکڑوں یا دھائیوں کی تاریخ کو کھنگالنے کی ضرورت ہے، یہ مکمل کہانی صرف 6 سے 7 سال کی ہے ۔ 2010ء سے 2015ء تک اخبارات کا جائزہ لیں تو آپ کو سب علم ہوگا کہ کون کیا چاہتا تھا اور کیا خواہش تھی۔

انصاف کی بات یہ ہے کہ 2014ء تک ایم کیوایم کے سوا عزیر بلوچ سب کا نجات دہندہ اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ عزیر بلوچ کی سیاسی قوت ان کے ساتھ ہو اورآج سب کے نزدیک عزیر بلوچ دہشت گرد ہے، ’کامیابی کے سو وارث اور ناکامی بانجھ ہے‘ کے مصداق اب سب بھاگ رہے ہیں ۔

کراچی میں جب تک ایم کیوایم کا عروج رہا تو ایم کیوایم کی یہ خواہش رہی کہ لیاری میں جگہ بنائی جائے اور پیپلزپارٹی کے اپنے اس قلعے کو کھونا نہیں چاہتی تھی ، ہزار اختلاف کے باوجود جب بھی لیاری والے پیپلزپارٹی کے انتخابی نشان تیر سے متعلق نغمہ سنتے تو جھوم اٹھتے ہیں ، مگر لیاری والوں کو پیپلزپارٹی سے شکایات بھی تھیں ۔اسی دوران عزیر بلوچ نے نہ صر ف ایم کیوایم کےعسکری گروپس کا مقابلہ کیا بلکہ ایم کیوایم کے حامیوں کے لئے دہشت اور مخالفین کے لئے امید کی کرن ثابت ہونے لگا۔


لیاری کے سیاسی فیصلوں میں عبدالرحمان بلوچ (رحمان ڈکیت) کے دور میں ہی عسکریت کا عمل دخل شروع ہوا تھا ،2009 میں مبینہ پولیس مقابلے میں عبدالرحمان کی موت کے بعد کلی گرفت عزیر بلوچ کی ہوئی اور امن کمیٹی کی شکل میں لیاری کے عسکری گروپوں کا سیاسی روپ سامنے آیا ، 2013ء کا الیکشن پیپلزپارٹی کے لئے بہت مشکل تھا ۔ کیونکہ لیاری پر گرفت پیپلزپارٹی کی سیاسی مخالف بہت ساری قوتیں عزیر بلوچ کی قوت سے فائدہ اٹھانا چاہتی تھیں ۔


شہر میں الطاف حسین کا خوف اور دہشت تھی اس لئے پیپلزپارٹی سے ناراض امن کمیٹی ایم کیوایم کے سوا سب سیاسی و مذہبی جماعتوں اور قوم پرست تنظیموں کے لئے امید کی کرن بن گئی۔

اسی زمانے میں عملاً ایم کیوایم مخالفت قوتوں کا ایک ’’ کراچی اتحاد‘‘ بھی سامنے آیا ،تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں خاموش حمایتی تھیں، تحریک انصاف، ن لیگ سمیت اکثر جماعتوں کی مقامی قیادت عزیر جان بلوچ سے ملاقات کے لے ہاتھ جوڑتی تھی ۔ 2014ء میں لیاری سے خان صاحب کے جلسوں میں بسیں بھر بھر لائی جاتی تھیں ، کوریج کرنے والے صحافی اس کے گواہ ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے بڑی مشکل سے لیاری کو قابو میں رکھا تھا۔

عروج کے زمانے میں ایم کیوایم مخالف قوتیں اور کئی صحافی عزیز بلوچ کے ساتھ ایک سلفی کے لئے ترستے تھے۔ 2013 ء اور اس کے بعد آج دہشت گرد کہنے والی کئی قوتیں شمولیت کے لئے رابطے کرتی رہیں ۔ جس طرح پیپلزپارٹی کا مکمل انکار خلاف حقیقت ہے ، اسی طرح دیگر کا انکار بھی غلط بیانی ہے ۔عزیر بلوچ 50 فیصد سچ بھی بولے تو کوئی نہیں بچے گا، سب کے نام آئیں گے۔ عروج کے زمانے میں دعویٰ کیا جارہاتھاکہ کئی قائدین محترم بالواسطہ شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں ۔

اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ عزیر بلوچ اور ان کے ساتھیوں کا جرائم کی دنیا سے گہرا تعلق تھا اور اس تعلق کا ادراک سب کو تھا مگر اس وقت سب کو اپنا مفاد نظر آ رہاتھا اور عزیر جان بلوچ سب کی جان تھا مگر آج جب اس کی دہشت گردی سامنے آئی تو سب انکاری ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر سیاسی قائدین عوام کو بے وقوف ، فاتر العقل ، یاداشت سے محروم سمجھتے ہیں اور پہلے کیا ہے اور کیا کہا اس کو بھول کر برعکس نئی بات کرتے ہیں اور مکمل لاتعلق و لاعلم ہوجاتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے