پاکستان

خواجہ آصف کو سفارش پر بینک میں بھرتی کروانے والے بہادر خان کون؟

جولائی 18, 2020

خواجہ آصف کو سفارش پر بینک میں بھرتی کروانے والے بہادر خان کون؟


محمد اسد چوہدری

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی جب وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان اور سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کے درمیان تند و تیز پیغامات کا تبادلہ ہوا تاہم اس ساری صورتحال میں چھپے دو پہلو منظرعام پر آئے جو عام لوگوں کے لیے باعث توجہ ہیں۔

ایک طرف تو خواجہ آصف نے یہ تسلیم کیا کہ انہیں اپنی زندگی کی پہلی بینک میں نوکری ملٹری ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خان کے بھائی سردار بہادر خان نے دلوائی مگر ساتھ ہی ساتھ اس تاریخی پہلو کو بھی ایک بار پھر منظرعام پر لے آئے جس سے نوجوان نسل واقف نہیں ہے کہ موخر الذکر خود اپنے ہی بھائی کہ آمریت میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے۔

ہوا کچھ یوں کہ خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر عمر ایوب کی گزشتہ تین الیکشنز میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی کو ظاہر کرنے والے پوسٹرز کے مجموعے والی تصویر پر مشتمل ایک پوسٹ کو ناصرف شیئر کیا بلکہ ساتھ یہ پیغام بھی لکھا کہ یہ لو گ سیاست کے لیے گالی ہیں، وفادار سیاسی ورکر جس پارٹی کا ھو قابل احترام ہے۔

اس کے جواب میں وزیر توانائی نے اپنے اکاؤنٹ سے خواجہ آصف کو طعنہ دیا کہ آپ نے اپنی بینک کی پہلی نوکری اپنی صلاحیت یا معیار پر نہیں بلکہ میرے دادا کے بھائی سردار بہادر خان کی سفارش پر حاصل کی۔ انہوں نے مزید یہ بھی لکھا کہ تمہارا لیڈر (نواز شریف) تحریک استقلال میں تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرنے کی وضاحت میں یہ بھی لکھا کہ میں نے مسلم لیگ کو 2002 اور 2018 میں شکست دی ہے۔

اس پوسٹ کے جواب میں خواجہ آصف نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کو UBL بینک میں پہلی نوکری سردار بہادر خان کی سفارش پر ملی تھی جو خواجہ آصف کے بقول ایک عزت دار اور اصول پسند آدمی کیونکہ انہوں نے عمر ایوب خان کہ دادیعنی ایوب خان کے مارشل لاء کی مخالفت کی تھی اور بعد میں اپنے ہی بھائی کی حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے۔

خواجہ آصف نے وزیر توانائی کو یہ بھی طعنہ دیا کہ سردار بہادر خان کی تصویر آج بھی قومی اسمبلی میں اویزاں ہے جبکہ غاصب اور خود ساختہ فیلڈمارشل ایوب خان کا جمہوریت کی راہداری میں کوئی ذکرموجود نہیں ہے۔

ان دونوں سیاسی رہنماؤں کی طعنوں سے بھرپور پیغامات میں تاریخی پہلو یہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جس سے اس نمائندہ نے بات کی ہے اس تاریخی حقیقت سے ناواقف ہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا اپنا حقیقی بھائی ہی مخالف تھا اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی تھا۔

اگر سردار بہادر خان کے متعلق دستیاب معلومات کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہ رسالدار میجر میر داد خان کے بیٹے اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے بھائی تھے۔ وہ قیام پاکستان سے پہلے ال انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ منسلک تھے اور1939 میں خیبر پختونخوا جو اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ ہوا کرتا تھا سے صوبائی اسمبلی کے رکن اور بعد میں سپیکر منتخب ہوئے۔ بعدازاں وہ 1946 میں بھی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد وہ وزیر اعظم لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ کی کابینہ کے رکن رہے اور مختلف اوقات میں مختلف وزارتیں ان کی ماتحت رہیں۔ وہ 1962میں ہونے والے انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی بنے۔ واضع رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب انکے حقیقی بھائی ایوب خان اقتدار پر قابض تھے۔

سردار بہادر خان جن کے نام سے بلوچستان میں خواتین کی ایک یونیورسٹی بھی منسوب ہے ایک پڑھے لکھے انسان تھے اور انہوں نے علی گڑھ سے مسلم یونیورسٹی سے LLB کر رکھا تھا۔ وہ بلوچستان کے چیف کمشنر کے طور پر بھی تعینات رہے۔ سردار بہادر خان ہی وہ سیاستدان تھے جنہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران کہا تھا کہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا۔

محمد اسد چودھری اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں جو ایک انگریزی روزنامے سے منسلک ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے