پاکستان کے نئے سیاسی نقشے پر چند سوال
دانش ارشاد۔ صحافی
پاکستان کی کابینہ نے پاکستان کے نقشے کی منظوری دی جس کے بعد اس نقشے کی حیثیت سرکاری مانی جائے گی اور یہی نقشہ دنیا کو دکھایا جائے گا۔
اس نقشے میں ریاست جموں و کشمیر کے کچھ حصوں کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے تاہم لداخ کے کچھ علاقے اور اکسائے چن (وہ علاقے جو اس وقت چین کی تحویل میں ہیں) کو نقشے کا حصہ نہیں بنایا گیا اس کے ساتھ چین کی جانب نقشہ کا رستہ کھلا ہے.
اس سرکاری نقشے کو دیکھتے ہوئے کئی سوال جنم لیتے ہیں.
سب سے پہلا سوال: پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ون میں ترمیم کے بغیر ریاست جموں کشمیر کو سرکاری نقشے میں کیسے شامل کیا گیا؟ خیال رہے یہ سوال ریاست جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسرا سوال: ریاست جموں و کشمیر کے جو علاقے چین کی تحویل میں ہیں کیا پاکستان ان پر کوئی کلیم نہیں کرے گا؟ چین کی تحویل میں اس وقت اکسائے چن اور لداخ کا ایک ہیں۔
تیسرا سوال: کیا ریاست کی سرحدوں کا تعین کے بغیر ریاست کا نقشہ مکمل ہو سکتا ہے؟ واضح رہے کہ چین اور ریاست جموں کشمیر کی سرحد کی کوئی حد بندی نہیں دکھائی گئی ہے.
چوتھا سوال: یہ نقشہ بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کرنے کے ٹھیک ایک سال بعد کسی ردعمل کا حصہ تو نہیں؟
پانچواں سوال: پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نقشے سے مسئلہ کشمیر پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور آزاد کشمیر کے باسیوں کا کیا ردعمل ہو گا؟
اس نقشے کو دیکھتے ہوئے جو آخری سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کیا تقسیم کشمیر پر چین, بھارت اور پاکستان کی باہمی رضامندی شامل ہے؟

