پاکستان

پاکستان میں لوگ لاپتہ کیوں کیے جاتے ہیں؟

ستمبر 2, 2020

پاکستان میں لوگ لاپتہ کیوں کیے جاتے ہیں؟

رستم اعجاز ستی ۔ صحافی، اسلام آباد

پاکستان کے معروف قانون دان کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ملک کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جب 65 کی جنگ تاشقند میں مذاکرات کی میز پر ہار کر واپس پلٹے تو ان کے خلاف نفرت کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ ڈکٹیٹر کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں اس کے خلاف فوج میں بغاوت نہ پھیل جاٸے، قومی رہنماٶں کو قابو کرنے کے لیے اس نے فوری طور پر دو آرڈیننس جاری کیے جس کے تحت آرمی ایکٹ میں بزریعہ ترمیم (d)(1) 2 متعارف کر کے یہ اختیار حاصل کر لیا کہ فوج کسی بھی شخص کو جو کہ فوج کے خلاف جاسوسی کا مرتکب ہو یا فوج میں حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہو کو نہ صرف گرفتار کر سکتی ہے بلکہ فوج کو اس معاملے میں مکمل تفتیش کا اختیار بھی حاصل ہوگا اور ایسے شخص کا مقدمہ بھی فوجی عدالت میں ہی چلایا جاٸے گا۔ اور اس معاملہ میں اعلی عدالتیں بھی مداخلت نہ کر سکیں گی اور نہ ہی کوٸی عدالت ان کی اپیل سن سکے گی۔
یہ ایک ایسا اندھا قانون ہے جس کی مثال دنیا کے کہیں موجود نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اسراٸیل اور ہندوستان کی فوج کے پاس بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی سویلین کو گرفتار کر کے اس پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلاٸیں اور اسے کسی بھی ملکی عدالت میں پیش نہ کریں۔
کرنل انعام الرحیم کے مطابق انگریز نے 1923 میں برصغیر میں سیکرٹ ایکٹ نافذ کیا اس ایکٹ کے دفعہ 12 کے تحت بھی فوج سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو صرف گرفتار کر سکتی تھی اور فوج کے لیے لازم تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد بغیر کسی تاخیر ان کو مجسٹریٹ کی عدالت یا قریبی پولیس سٹیشن کے حوالے کیا جاٸے گا۔
اور یہی بات آٸین پاکستان کے آرٹیکل (2)10 میں تحریر ہے کہ کسی بھی شخص کو گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے کے اندر قریبی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جاٸے گا اور اگر اس کو زیرحراست رکھنے کی ضرورت ہو تو صرف مجسٹریٹ کی تحریری اجازت سے زیرحراست رکھا جا سکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی آرمی ایکٹ میں متعارف شدہ ترمیم (d)(1) 2 کو فی الفور ختم کیا جاٸے جس کی کسی بھی جمہوری ملک میں مثال نہیں ملتی۔
آرمی ایکٹ کی دفعہ 51 میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص کسی بھی شخص کو بغیر اس کے جرم کی وجہ بتاٸے 24 گھنٹے سے ذیادہ قید رکھے گا اسے دو سال تک کی سزا دی جاٸے گی۔ ضروری ہے کہ آرمی ایکٹ کی اس شق پر پوری طرح عملدرآمد کروایا جاٸے اور جن لوگوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے ان کو آرمی ایکٹ کے مطابق قرارواقعی سزا دی جاٸے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے