پاکستان

بلدیاتی انتخاب: الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت آمنے سامنے

ستمبر 4, 2020

بلدیاتی انتخاب: الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت آمنے سامنے


کراچی، رپورٹ: عبدالجبار ناصر
سندھ میں نئی بلدیاتی حلقوں بندیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت آمنے سامنے ہیں اور الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کمیٹیاں تشکیل دے کر شیڈول بھی جاری کردیا ہے جبکہ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق چھٹی مردم شماری 2017ء کے حتمی نتائج کے اجراء کے بغیر حلقہ بندیاں اور نہ بلدیاتی انتخابات ممکن ہیں، پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے باقی تین صوبوں کو نظر انداز کرکے سارا زور سندھ پر ڈالنے پر بھی سوالات اٹھا ئے ہیں۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے نمائندے اپنی چار سالہ قانونی مدت 30 اگست کو مکمل کرچکے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 31 اگست کو سندھ میں نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں کے لئے شیڈول کیا، جس کے مطابق 9 ستمبر سے نئی حلقہ بندیوں کا کام شروع اور 30 اکتوبر تک مکمل ہونا ہے ۔ یکم ستمبر کو الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی اداروں کی نئی حلقہ بندیوں کے لئے صوبے کے 29 اضلاع میں ’’حلقہ بندی کمیٹیاں ‘‘تشکیل دے دی ۔

پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر نثار احمد کھوڑو اور تاج حیدر نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ چھٹی مردم شماری 2017ء کے حتمی نتائج کے بغیر الیکشن کمیشن کا یہ عمل سوالیہ نشان ہے اور انہوں نے اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو خطوط کے ذریعے آگاہ بھی کیا ہے ۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی جمعرات کو پریس کانفرنس میں واضح کیاہے کہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق بلدیاتی انتخاب ممکن نہیں ہیں ،کیونکہ چھٹی مردم شماری ہوچکی ہے اور چھٹی مردم شماری 2017ء کے حتمی نتائج کے اجراء کے بغیر الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندی کرسکتا ہے اور نہ انتخابات ۔

الیکشن کمیشن کے مطابق جمعرات کو الیکشن کمیشن کا سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اجلاس ہوا جس کی صدارت سکندر سلطان راجہ چیف الیکشن کمشنر نے کی۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ الیکشن کمیشن کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں رہنما پاکستان پیپلزپارٹی تاج حیدر اور نثاراحمد کھوڑو کے خطوط جو انھوں نے الیکشن کمیشن کو ارسال کئے ، زیر غور آئے ان خطوط کے مطابق الیکشن کمیشن آئین پاکستان کے آرٹیکل51(5)کے تحت پابند ہے کہ صوبہ میں حلقہ بندی صرف اور صرف محکمہ شماریات کے طرف سے جاری کردہ سرکاری طور پر شائع شدہ آبادی کے اعدادو شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے کر سکتا ہے۔ جب تک محکمہ شماریات آبادی کے حتمی اعدادوشمار شائع نہیں کرتا الیکشن کمیشن صوبہ سندھ میں حلقہ بندیاں نہیں کر سکتا۔

اجلاس میں خطوط اور میڈیا میں آنے والے بیانات پربھی غورکیا گیا۔الیکشن کمیشن نے دفتر کو حکم دیا کہ گورنمنٹ آف سندھ کو خط لکھاجائے اور انہیں 7ستمبر کو دن 11بجے الیکشن کمیشن اسلام آباد آنے کی ہدایت کی جائے تاکہ الیکشن کمیشن حکومت سندھ کے سرکاری موقف کی سماعت کریاوراس پرقانون کے مطابق مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کا یہ اعتراف ہے کہ بلدیاتی ایکٹ 2013ء میں ترامیم نہ ہونے کی وجہ سے شیڈول کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے عمل کو جاری رکھنا بہت مشکل ہوگا ، کیونکہ بلدیاتی اداروں کی تعداد یا متعلقہ اداروں میں آبادی کا تعین کرنا سندھ حکومت کا کام ہے ، جو بلدیاتی ایکٹ 2013ء میں کرنا ہے اور چھٹی مردم شماری 2017ء کے حتمی نتائج کے اعلان تک سندھ حکومت کے لئے بلدیاتی ایکٹ 2013ء میں ترمیم ممکن نہیں ہے ۔چھٹی مردم شماری 2017ء کے حتمی نتائج کا اعلان مشترکہ مفادات کونسل یعنی وفاقی حکومت نے کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی مدت کے تکمیل یا قبل از وقت تحلیل کو کئی ماہ یا برس گرزچکے ہیں مگر وہاں کے حوالے سے الیکشن کمیشن اتنا متحرک نہیں ،جتنا سندھ کے حوالے سے ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت کا یہ موقف درست ہے کہ مردم شماری 2017ء کے حتمی نتائج کے اجراء کے بغیر حلقہ بندی اور انتخابات ممکن نہیں ، تاہم الیکشن کمیشن نے اپنی قانوں زمہ داری پوری کرتے ہوئے اپنا کام کیاہے اور سندھ حکومت نے تحریری طور پر آگاہ کرتی ہے تو اس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے