سنتھیا سے بچنے کے لیے رحمان ملک کا سپریم کورٹ سے رجوع
پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سینتیھا ڈی رچی کو نیم برہنہ کرنے کا الزام درست بھی مان لیا جائے تو یہ زیادتی کا مقدمہ نہیں بنتا۔
پیر کو رحمان ملک نے سنتھیا ڈی رچی سے مبینہ زیادتی پر اندراج مقدمہ کا عدالتی حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
پیپلزپارٹی رہنما رحمان ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ مقدمہ 9 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے.
درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اندراج مقدمہ کا ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا جائے. سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون اور حقائق کے برعکس ہے،سنتھیا نے رحمان ملک پر صرف نیم برہنما کرنے کا الزام عائد کیا تھا،نیم برہنہ کرنے کا الزام درست مان لیا جائے تو بھی ذیادتی کا کیس نہیں بنتا.
اپیل میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے نو سال بعد اندراج مقدمہ کی درخواست کے پہلو کو نظرانداز کیا،رحمان ملک نے بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی سنتھیا کی بی بی شہید کیخلاف مہم کا نوٹس لیا تھا،سنتھیا کی درخواست کیساتھ میڈیکل سمیت کوئی شواہد دستیاب نہیں،سنتھیا نے مبینہ واقعہ کے وقت سفارتخانہ کے ذریعے بھی پولیس سے رجوع نہیں کیا.
اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کو بھی اندراج مقدمہ کی درخواست میں کوئی ٹھوس مواد نظر نہیں آیا،حکومت سنتھیا کو ملک چھوڑنے کا حکم دے چکی ہے،سنتھیا ڈی رچی کی اندراج مقدمہ کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکیل کو دلائل کا پورا موقع بھی نہیں دیا.

