پاکستان

سنتھیا سے بچنے کے لیے رحمان ملک کا سپریم کورٹ سے رجوع

ستمبر 7, 2020

سنتھیا سے بچنے کے لیے رحمان ملک کا سپریم کورٹ سے رجوع

پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سینتیھا ڈی رچی کو نیم برہنہ کرنے کا الزام درست بھی مان لیا جائے تو یہ زیادتی کا مقدمہ نہیں بنتا۔

پیر کو رحمان ملک نے سنتھیا ڈی رچی سے مبینہ زیادتی پر اندراج مقدمہ کا عدالتی حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

پیپلزپارٹی رہنما رحمان ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ مقدمہ 9 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے.

درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اندراج مقدمہ کا ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا جائے. سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون اور حقائق کے برعکس ہے،سنتھیا نے رحمان ملک پر صرف نیم برہنما کرنے کا الزام عائد کیا تھا،نیم برہنہ کرنے کا الزام درست مان لیا جائے تو بھی ذیادتی کا کیس نہیں بنتا.

اپیل میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے نو سال بعد اندراج مقدمہ کی درخواست کے پہلو کو نظرانداز کیا،رحمان ملک نے بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی سنتھیا کی بی بی شہید کیخلاف مہم کا نوٹس لیا تھا،سنتھیا کی درخواست کیساتھ میڈیکل سمیت کوئی شواہد دستیاب نہیں،سنتھیا نے مبینہ واقعہ کے وقت سفارتخانہ کے ذریعے بھی پولیس سے رجوع نہیں کیا.

اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کو بھی اندراج مقدمہ کی درخواست میں کوئی ٹھوس مواد نظر نہیں آیا،حکومت سنتھیا کو ملک چھوڑنے کا حکم دے چکی ہے،سنتھیا ڈی رچی کی اندراج مقدمہ کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکیل کو دلائل کا پورا موقع بھی نہیں دیا.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے