پاکستان24

موٹر وے ریپ کیس کا مرکزی ملزم گرفتار کیوں نہیں کیا جا سکا؟

ستمبر 19, 2020

موٹر وے ریپ کیس کا مرکزی ملزم گرفتار کیوں نہیں کیا جا سکا؟

پاکستان میں پنجاب پولیس دس دن گزرنے کے بعد بھی موٹر وے ریپ کیس میں ملوث مرکزی ملزم عابد علی ملہی کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

پنجاب پولیس کے بعض اعلیٰ افسران ان کیمرا بریفنگز میں کہہ چکے ہیں کہ ملزم کے فرار ہونے کے ذمہ دار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے ٹوئٹر پر سرگرم وہ درجن بھر ترجمان ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر بریکنگ نیوز کے چکر میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ڈی این اے میچنگ کی خبر دی۔

پولیس افسران یہ بھی کہتے ہیں کہ ملزم کے بارے میں بعض ٹی وی چینلز کو رات گئے اطلاع بھی صوبائی حکومت میں موجود افراد نے دی جس کے بعد پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کو اس کی تردید کرنا پڑی تاہم اس وقت تک ملزم خبردار ہو چکا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم عابد علی ملہی دو بار قانون کی گرفت میں آنے سے کچھ دیر پہلے خبردار ہوا اور موقع سے فرار ہو گیا۔

پنجاب اور وفاقی حکومت کے بعض ترجمانوں نے ملزم کے ڈی این اے میچ کرنے کی خبر دیتے وقت ٹوئٹر پر مبارکباد کے پیغام پوسٹ کیے تھے جس پر ان کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ اور صوبے کے پولیس سربراہ نے مرکزی ملزم کے فرار کے حوالے سے پریس کانفرنس بھی کی تھی جس کو ملک بھر میں سول سوسائٹی کے افراد نے تنقید کا نشانہ بنایا۔

تفتیشی اداروں کے حکام نے حکومت کو بتایا ہے کہ ملزم اس وقت تنہا ہے اور کسی بھی وقت گرفتار کر لیا جائے گا کیونکہ اس کے پاس رقم ختم ہو چکی ہے اور کوئی بھی اس کو پناہ دینے کو تیار نہیں۔

اس کیس میں اپنے متنازع بیان سے بدنام ہونے والے لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کا کہنا ہے کہ ملزم سے متعلق اب کسی بھی طرح کی معلومات میڈیا کے ساتھ شئیر نہیں کی جا سکتیں۔

پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزم کے پیچھے مخبر لگے ہوئے ہیں اور اس کی سات مختلف حلیوں والی تصاویر پبلک میں شیئر کر کے معلوم حاصل کی جا رہی ہیں کیونکہ ملزم فون استعمال نہیں کر رہا تو اس کی لوکیشن ٹریس کرنا ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب سی ٹی ڈی نے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے لیے اس کے گھر شیخوپورہ میں جس وقت چھاپہ مارا تو وہ دو گھنٹے پہلے وہاں سے فرار ہو چکا تھا۔

ملزم کی موجودگی کے بارے میں دوسری اطلاع 17 ستمبر کو ملی مگر جب وہاں پولیس ٹیم پہنچی تو وہ موجود نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اس کیس میں ایک ملزم شفت علی گرفتار ہے جس نے پولیس کے مطابق جرم کا اعتراف بھی کیا ہے اور اس کا ڈی این اے بھی میچ کر چکا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے