پاکستان24

شوکت صدیقی کی بحالی کی درخواست پر کیا ہوا؟

ستمبر 24, 2020

شوکت صدیقی کی بحالی کی درخواست پر کیا ہوا؟

سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کو بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ بحال کرنے سے متعلق مقدمے میں فریقین کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے جنھیں فریق بنایا ہے وہ یہیں بیٹھے ہیں۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت کی۔

واضح رہے شوکت عزیز صدیقی نے بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ راولپنڈی بار کی ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا ملک کی ایجنسیاں اپنی مرضی کے عدالتی بنچ بنواتی ہیں۔

جوڈیشل کونسل نے ایجنسیوں کے کردار اور عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق بیان پر شوکت عزیز صدیقی کوبطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی. شوکت عزیز صدیقی نے برطرفی کو سپریم کورٹ میں بدنیتی کے نقطے پر چیلنج کر رکھا ہے۔

سماعت کے آغاز پر بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاسپریم کورٹ ایک حکمنامے میں اصول وضع کر چکی ہے ،افتخار چوہدری کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا بدنیتی کی بنیاد پر کونسل کی کارروائی چیلنج ہو سکتی ہے،کونسل کی کارروائی چیلنج کرنے کے اصول پر ابھی ایک فیصلہ آرہا ہے، آپ انتظار کریں۔

شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ جب تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی فیصلہ نہیں آتا فریقین کو نوٹس جاری کریں،دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاایسی کوئی روایت نہیں ہے جس میں کونسل کی رائے سے صدر نے اختلاف کیا ہو،مفروضہ بہرحال موجود ہے،یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں کونسل کی رائے کو چیلنج کیا گیا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا تھا آپ کو کونسل کی کارروائی اور رائے کو چیلنج نہ کرنے کی آئینی قدغن پر مطمئن کرنا ہوگا، آپ نے ہمیں پورا آئینی ڈھانچہ سمجھانا ہے،عدالت کو اس نقطے پر بھی مطمئن کرنا ہوگا جج کو ہٹانے سے متعلق کونسل کی رائے کیخلاف اپیل کا حق کیوں نہیں دیا گیا،کیا اپیل کا حق دینے کیلئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی، پاکستان کے پارلیمانی نظام میں جج کو ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے،جج کو ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ کو بااختیار بنایا گیا تو ایسی کھچڑی بنے گی جیسا انڈیا میں ہوا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے صدارتی ریفرنس کو خارج کرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کا حوالہ دیے بغیر کہا ایک ماہ بعد ہو سکتا ہے آپ کے پاس مزید مواد موجود ہو۔

عدالت نے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا بظاہر جج کو ہٹانے بارے کونسل کی رائے کو چیلنج کرنے پر آئینی قدغن موجود ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے