اہم خبریں

’ساتھیوں کی فائرنگ سے‘ ملزم ہلاک، سی سی ڈی کے مقابلوں میں‌ ہلاکتیں ’ایک ہزار‘

جون 25, 2026

’ساتھیوں کی فائرنگ سے‘ ملزم ہلاک، سی سی ڈی کے مقابلوں میں‌ ہلاکتیں ’ایک ہزار‘

پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مبینہ مقابلوں یعنی ساتھیوں‌ کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ملزمان کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے-

پاکستان میں‌ انسانی حقوق کے کمیشن (ایچ آر سی پی) کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اس محکمے نے اپریل 2025 میں‌ اپنے قیام کے صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں‌ مبینہ مقابلوں‌ میں‌ 924 زیرحراست ملزمان کو مبینہ مقابلوں میں‌ ہلاک کیا- یہ مقابلے اس لیے بھی مشکوک قرار پاتے ہیں‌ کہ اس دوران صرف دو اہلکار جان سے گئے-

رواں برس اس محکمے کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات کے اعداد وشمار کے بعد زیرِحراست ملزمان کی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ چکی ہے-

چکوال میں‌ دو ہفتے قبل آسٹریلیا سے آئی معصوم بچی کی سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے موت کے بعد اس محکمے پر سخت تنقید کی گئی اور اس پر ماورائے عدالت قتل کے سنگین الزامات عائد کیے گئے مگر پنجاب حکومت اور ملک کی اعلیٰ عدلیہ خاموش رہی-

بدھ کو پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حکام نے دعویٰ کیا کہ سرگودھا شہر میں آٹھ سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی ہے۔

پولیس نے آٹھ سالہ منتہا زہرا کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں مرکزی ملزم سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش کی غرض سے سی سی ڈی کے حوالے کیا تھا۔

سی سی ڈی حکام سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سی سی ڈی سرگودھا کی ٹیم ’ملزم کو برائے نشاندہی و برآمدگی آلہ قتل علاقہ تھانہ جھال چکیاں لے جا رہی تھی۔ (اس دوران) ملزمان نے سی سی ڈی ٹیم کو دیکھتے ہی ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی ہے۔ تاہم یہ نہیں‌ بتایا گیا کہ جن ملزمان نے سی سی ڈی ٹیم کو دیکھتے ہی فائرنگ کی وہ اچانک غائب کیسے ہو گئے-
گزشتہ سوا برس کے دوران لگ بھگ ہر بیان میں یہی جملہ دہرایا جاتا ہے اور آج تک ’ساتھی کو چھڑانے کی کوشش میں‌ فائرنگ‘ کر کے اپنی زیرحراست ’دوست‘ کو ہلاک کرنے والے کسی ملزم کو پکڑا نہیں‌ جا سکا-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے