متفرق خبریں

جسٹس وقار سیٹھ نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا؟

نومبر 28, 2020

جسٹس وقار سیٹھ نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا؟

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن قاضی انور نے انکشاف کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے مرحوم چیف جسٹس وقار سیٹھ نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کا جج بنتے ہی استعفی دینے کو ترجیح دیں گے۔

قاضی انور کے مطابق ”زندگی کے آخری ایام میں انہیں پیغام تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن واپس لے لیں تو اس کے حوالے سے مثبت فیصلہ ہو سکتا ہے۔ وفات سے دو دن قبل سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر ہوئی تھی اس سے متعلق میری اور (سینئر وکیل) حامد خان کی گزشتہ ماہ چودہ اکتوبر کو ان کے ساتھ بات ہو چکی تھی، میں نے اور حامد خان نے ان سے ڈسکس کر لیا تھا پھر 10 نومبر کو ہم نے خود ہی درخواست دائر کر دی تھی۔“

روزنامہ ایکسپریس سے منسلک صحافی ثاقب بشیر سے خصوصی گفتگو میں جسٹس وقار سیٹھ کے استاد سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن قاضی انور کا کہنا تھا کہ وفات سے تقربیا ۲۰ روز قبل وہ اسپتال داخل ہوئے تھے ہسپتال داخل ہونے سے قبل انہوں نے اپنی بیٹی کو نصحیت کی تھی بلکہ کچھ رقم نکلوا کر دی تھی کہ میرا جتنا بھی خرچ علاج پر ہو گا وہ ہم نے اپنی جیب سے دینا ہے۔ ان کی وفات کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے اسرار کے باوجود وہ اخراجات ان کی بیٹی نے جیب سے ادا کئے ہیں۔

قاضی انور نے بتایا کہ پرویز مشرف کے فیصلے کے بعد حال میں ہی ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے جج نے انہیں کہا تھا کہ آپ تو نام کے ہی سیٹھ ہیں۔ ڈی آئی خان اور پشاور سمیت ان کی کہیں بھی پراپرٹی جائیداد نہیں تھی نہ کوئی بنک بیلنس صرف تنخواہ تھی۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے ولیمے کے دن وہ لاہور میں موجود تھے چیف جسٹس نے میٹنگ لاہور میں رکھی ہوئی تھی انہوں نے میٹنگ اٹینڈ کی لیکن ولیمہ میں شرکت کرنے کی بجائے واپس لوٹ آئے سپریم کورٹ کے جج کے پوچھنے پر کہا کہ میں ججز کے اس طرح کی تقریبات اٹینڈ نہیں کرتا ایک دن میرے دفتر آئے چیک بک سامنے رکھی کہا کہ میری تنخواہ سے کچھ پیسے بچ جاتے ہیں وہ بھی اکاونٹ میں موجود ہیں وہ آپ چیک پر لکھ لیں اور خدمت خلق میں جو خرچ کرتے ہیں اس کو بھی خرچ کردیں لیکن میں نے کہا میں نے ایک ٹرسٹ بنانا ہے جس پر اس نے کہا کہ اس ٹرسٹ میں سب سے پہلے میں حصہ دوں گا۔

وقار سیٹھ کے والد نے بطور سیشن جج نہ پلاٹ نہ بنک بیلنس نہ ہی گھر میں صوفہ رکھا ہوا تھا سرکاری فون بھی اپنے پرائیویٹ استعمال نہیں کرتے تھے تہجد گزار تھے و قار سیٹھ نے مجھے خود بتایا تھا کہ وہ جب سے چیف جسٹس بنے ہیں چیف جسٹس کی کرسی پر نہیں بیٹھے جب بیٹی کو کینسر ہو گیا تو لاہور ہسپتال میں علاج کرایا ایک ماہ چھٹی پر رہے نہ علاج کا خرچ نہ ہی ٹی ڈی اے پشاور ہائی کورٹ سے لیا جو قانونی طور پر بھی لے سکتے تھے

”ایک دفعہ میرے گھر آئے تو میرے ملازم نے دروازہ نہیں کھولا تو بولے میں چیف جسٹس ہوں تو میرے ملازم بخت زمان نے کہا آپ کی شکل چیف جسٹس جیسی نہیں لگتی پھر مجھے اس نے فون کر کے یہی بتایا تو میں نے بخت زمان کو کہا کہ انہیں اندر بٹھائیں پرویز مشرف کیس کے فیصلے اور کچھ اور فیصلوں کے بعد ان کو تھریٹس بھی تھیں لیکن کہتے تھے مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے