پاکستان میں بغاوت کے مقدمات درج کرانے کا طریقہ کار اب آسان
پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے بغاوت کے مقدمات فوری درج کرانے اور ان کی عدالتوں میں پیروی کو تسلسل دینے کے لیے طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے میڈیا کو فراہم کی گئیں معلومات میں بتایا گیا ہے کہ نئے طریقہ کار کے تحت اب ایسے مقدمات درج کرانے میں آسانی کے لیے کابینہ کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دے دیا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی تحریک اور حکومت کے ساتھ سیاسی تناؤ کے دنوں اس فیصلے کو اہم قرار دے رہے ہیں جس کے تحت ریاست کے خلاف بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
وزارت داخلہ کے حکام نے میڈیا کے نمائندوں کو واٹس ایپ پیغام میں بتایا کہ ایسے مقدمات میں کارروائی کا اختیار اب وفاقی کابینہ کے بجائے وزارت داخلہ کو مل گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق پہلے اس طرح کے مقدمات پر کارروائی جب تک نہیں ہوتی تھی جب تک وفاقی کابینہ اس کی منظوری نہ دے جس کی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ایک سرکولر کے ذریعے اختیار سیکرٹری داخلہ کو تفویض کرنے کی منظوری دی ہے جس کے بعد بغاوت کے مقدمات درج کرنے کی منظوری دینے کا اختیار اب سیکرٹری داخلہ کے پاس آ گیا ہے۔
نئی منظوری کے بعد اب صوبائی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کروا سکیں گی۔
میڈیا کو فراہم کی گئی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 196 کے تحت وفاقی حکومت کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ان مقدمات میں فوری شکایت کرنا اور مقدمات کی پیروی کرنا ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال اکتوبر میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور پارٹی کے دیگر رہنماوں کے خلاف صوبائی دارالحکومت لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں ’غداری‘ اور ’ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسانے‘ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں دیگر لیگی رہنماوں کے نام مقدمے سے خارج کر دیے گئے تھے۔
نئے طریقہ کار کے نفاذ کے بعد ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا کوئی واقعہ ہو گا تو وفاقی حکومت کی طرف سے سیکرٹری داخلہ اس کی شکایت درج کروا سکے گا جب کہ اس سے قبل وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے سمری بھیجنا ضروری تھا۔

