لاہور کے متنازع پولیس چیف عمر شیخ تبدیل
پنجاب میں حکومت نے لاہور کے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ غلام محمود ڈوگر نئے سی سی پی او تعینات کیے گئے ہیں۔
عمر شیخ کو ڈپٹی کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری تعینات کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ عمر شیخ کی وزیراعظم عمران خان نے کئی بار تعریف کی جبکہ ان پر سول سوسائٹی تنقید کرتی رہی ہے۔
عمر شیخ نے 2 ستمبر 2020 کو سی سی پی او لاہور کا چارج سنبھالا تھا اور پولیس کو درست کرنے کے عمر شیخ فارمولا کے اعلان کیا تھا۔
عمر شیخ نے 3 ماہ میں لاہور پولیس میں انقلابی تبدیلیوں کا دعوی کیا تھا۔ عمر شیخ نے پولیس نظام میں کورٹ مارشل طرز کا احتسابی نظام تجویز کیا تھا۔
عمر شیخ نے پولیس کارکردگی جانچنے کیلئے گیلپ سروے کرانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اپنے متنازع بیانات کے باعث عمر شیخ اکثر خبروں کی زینت رہتے۔
موٹروے ذیادتی کیس میں عمر شیخ کے بیان نے تنازعہ کھڑا کیا تھا۔
عمر شیخ نے اپنی تعیناتی کے دوران 1031 اہلکاروں کو تبدیل کیا
لاہور: تبدیل ہونے والوں میں 5 انسپکٹرز، 23 سب انسپکٹرز،54 اے ایس آئیز تبدیل ہوئے۔
عمر شیخ نے 115 ہیڈ کانسٹیبلز، 390 کانسٹیبلز کو تبدیل کیا۔
شیخ کا پہلا متنازع بیان خواتین کے گھروں سے اپنے محرم کے بغیر نکلنے سے متعلق تھا، بعد میں انہوں نے اس بیان کی معافی بھی مانگی تھی۔
اپنے ان بیانات کے بعد عمر شیخ نے میڈیا کے ساتھ روابط ختم کر دیے تھے۔ تین ماہ بعد ہی ان کی کارکردگی سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھنا شروع ہو گئے تھے۔
انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران کئی جونیئر پولیس افسران کو گرفتار کروایا اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں عمر شیخ کی تعیناتی کی وجہ اپنے قریبی عزیز کی زمین پر قبضہ چھڑوانا بتائی تھی۔

