مولانا فضل الرحمان سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا رابطہ، ’عدم مداخلت‘ کا پیغام
پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔
معروف صحافی انصار عباسی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے جمعہ کو پی ڈی ایم کی قیادت کو مقتدر فوجی طاقت کے ایک فرد کی جانب سے ملنے والے پیغام سے آگاہ کیا۔
پیغام کے مطابق مقتدر حلقے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور ان معاملات سے بھی دور رہیں گے جو اپوزیشن اتحاد کے زیر غور ہیں۔
جمعے کو رائے ونڈ میں پی ڈٰی ایم اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کو مولانا نے بتایا کہ ایک طاقتور شخصیت نے ان سے ملاقات کی خواہش کا بھی اظہار کیا جو انہوں نے مسترد کر دی اور جواب دیا کہ اب وہ موقع نہیں رہا۔
انصار عباسی کے مطابق دوسری جانب عمران خان کی حکومت کو نکال باہر کرنے کے لیے تشکیل دیا جانے والا اپوزیشن اتحاد اپنے اعلانیہ مقصد کے حصول کے لیے حکمت عملی کے معاملے پر منقسم رہا۔ اور اس بات کی اطلاعات ہیں کہ پی ڈی ایم میں تقسیم کے لیے بیرونی اثر رسوخ ا ستعمال کیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ پی ڈی ایم کو تقسیم کرنے کیلئے بیرونی اثر رسوخ استعمال کیا گیا ہے، پیپلز پارٹی کی جانب سے بار بار اختیار کیا جانے والا موقف ایک طرف اور دوسری طرف نواز اور مولانا کے اتحاد کی وجہ سے اپوزیشن کی تحریک کو بڑا دھچکا لگا ہے اور حالات اس نہج کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں جب اپوزیشن کا اتحاد غیر موثر ہو جائے گا۔
انصار عباسی کی خبر کے مطابق پی ڈی ایم کے کچھ رہنمائوں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔

