پاکستان24

ہزارہ برادری کی تکالیف کا احساس، تعزیت کے لیے حاضر ہوں گا: عمران خان

جنوری 6, 2021

ہزارہ برادری کی تکالیف کا احساس، تعزیت کے لیے حاضر ہوں گا: عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں مچھ میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہزارہ برادری کے افراد کے لواحقین کی تکالیف اور مطالبات کا احساس ہے۔

بدھ کو ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ’میں پہلے بھی آپ کے غم بانٹنے کے لیے آچکا ہوں اور بہت جلد اہل خانہ کے پاس ذاتی طور پر دعا اور تعزیت کے لیے حاضر ہوں گا۔‘

 عمران خان نے کہا کہ ’میں کبھی بھی اپنے عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔‘

وزیراعظم نے مچھ میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اپیل کی کہ وہ ’اپنے پیاروں کی میتوں کو جلد دفنا دیں تاکہ ان کی رُوحیں آسودگی پاسکیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’ہم مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور جان لیں کہ ہمارا ہمسایہ اس فرقہ وارانہ دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں تین جنوری کو ایک حملے میں دس کوئلہ کان کنوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے خلاف خلاف کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی جانب سے گذشتہ چار روز سے میتوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کوئٹہ آئیں، بصورت دیگر وہ قتل ہونے والے افراد کی تدفین نہیں کریں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر ذلفقار بخاری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے حوالے سے پھیلائے جانے والے ویڈیو کلپ میں موجود لوگ نہ ہی شہداء کے ورثاء ہیں نہ ہی ان کے نمائندے، اور نہ ہی یہ حصّہ پوری گفتگو ہے۔

زلفی بخاری کے مطابق ”اپنے آرام دہ گھروں میں بیٹھ کر اور سچائی جانے بغیر شہداء کی لاشوں پر سیاست کرنا نہایت گرا ہوا فعل ہے۔“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے