پاکستان24

ذکی الرحمان لکھوی کو سزا: پاکستان کا امریکہ کو جواب

جنوری 10, 2021

ذکی الرحمان لکھوی کو سزا: پاکستان کا امریکہ کو جواب

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ذکی الرحمان لکھوی کی سزا پر امریکہ کے ردعمل کے جواب میں کہا ہے کہ ممبئی کیس میں قانونی عمل بھارت کے گواہان بھیجنے میں ہچکچاہٹ سے رکا ہوا ہے، امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اپنے تحفظات دہشتگردی کی انڈین منصوبہ بندی، فروغ، مالی معاونت کے لیے رکھے۔

اتوار کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیان پر ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اپنے ملکی قوانین پر عمل اور عالمی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کر رہا ہے۔ تفتیش اور استغاثہ کی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں سزائیں پاکستان کے قانونی نظام کے شفاف اور فعال ہونے کا مظہر ہیں جو کسی بیرونی اثر سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ کام کر رہا ہے۔‘

پاکستان نے کہا ہے کہ ’ممبئی کیس اس لیے تعطل کا شکار ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کی عدالتوں میں گواہ پیش کرنے سے گریز کیا گیا۔‘

دفتر خارجہ نے امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے کہا ہے کہ وہ ’پاکستان کی جانب سے انڈیا کی دہشت گرد کارروائیوں کو فروغ دینے، منصوبہ بندی اور رقم فراہم کرنے پر تحفظات ظاہر کرے جس کے ثبوت پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔‘

واضح رہے کہ سنیچر کو امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم لشکر طیبہ کے رہنما ذکی الرحمٰن لکھوی کو ’دہشت گردی کے واقعات اور ممبئی حملوں‘ میں ملوث ہونے پر قانون کے کٹہرے میں لائے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ’ذکی الرحمٰن لکھوی کی حالیہ سزا حوصلہ افرا ہے۔ تاہم ان کے ’جرائم‘ دہشت گردی کی مالی معاونت سے زیادہ ہیں۔ پاکستان انہیں دہشت گردانہ حملوں بشمول ممبئی حملوں میں ملوث ہونے پر انہیں کٹہرے میں لائے۔‘

قبل ازیں جمعے کو لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ذکی الرحمٰن لکھوی کو دہشگردوں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر 15 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کے خلاف یہ مقدمہ کاونٹر ٹیررازم فورس نے سات دسمبر 2020 کو لاہور میں درج کیا تھا۔ جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ذکی الرحمن لکھوی اور ان کے قریبی ساتھی ابو انس محسن کو دہشتگردوں کے لیے چندہ اکھٹے کرتے دیکھا گیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے