طلبہ کا احتجاج: ’یونیورسٹیاں اور ایچ ای سی آن لائن امتحان پر مشاورت کریں‘
پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ آن لائن پڑھنے والے طلبہ کے آن لائن یا آن کیمپس امتحانات لینے کا فیصلہ متعلقہ یونیورسٹیوں کے حکام کریں گے۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ بعض یونیورسٹیوں کے طلبہ آن لائن امتحانات کے لیے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں۔ ‘یہ فیصلہ کرنا یونیورسٹیوں کا کام ہے تاہم میں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے مشاورت کرے اور دیکھے کہ کیا غیر معمولی حالات میں رواں سال اس طرح کرنا ممکن ہے۔’
پاکستان میں یونیورسٹیوں کے طلبہ نے گزشتہ برس آن لائن تعلیم حاصل کی جبکہ رواں سال طلبہ نے ملک کے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور مطالبہ کیا ہے کہ امتحانات بھی آن لائن منعقد کیے جائیں۔
اسلام آباد کی بحریہ یونیورسٹی اور لاہور و ملتان کی یونیورسٹیوں کے طلبہ نے پیر کو آن لائن پیپرز لینے کے لیے احتجاج کیا۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ یونیورسٹیاں اس امر کا بھی جائزہ لیں کہ کیا ان کے پاس تکنیکی سہولت دستیاب ہے کہ تمام طلبہ کے آن لائن پیپرز لیے جائیں۔ ‘ہر ایک کا امتحان لیا جانا چاہیے اور اس بات کی عمل بھی یقینی بنایا جائے کہ آن لائن امتحانات کو آسانی سے گریڈ حاصل کرنے کے لیے غلط طور پر استعمال نہ کیا جائے۔’
شفقت محمود نے کہا کہ بہتر امتحانی پرچے تیار کرنا اور اسسیمنٹ کرنا اہمیت کا حامل ہے۔

