وزیراعلیٰ پنجاب نے غیرقانونی طور پر بلدیاتی ادارے تحلیل کیے: چیف الیکشن کمشنر
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران سے جواب طلب کیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن کے ممبران پیش ہوئے۔
چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ انہوں نے ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سے بلدیاتی انتخابات کا پوچھ رہے ہیں آپ ضمنی انتخاب کی بات کر رہے ہیں، آپ کا سنجیدہ اقدامات کرنے سے متعلق الفاظ استعمال کرنا بے معنی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے خیبر پختونخوا کو کے پی پکارا تو جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ آپ آئینی ادارے کے سربراہ ہیں، صوبے کا پورا نام کیوں نہیں لیتے، آئین میں صوبے کا نام خیبر پختون خوا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ کے پی کے کیا ہوتا ہے، لوگوں میں پیار کے بجائے نفرت نہ پھیلائیں، پھر کہا جاتا ہے محرومیاں ختم نہیں ہوتیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے بلدیاتی اداروں کو تحلیل کرنے کا وزیراعلیٰ پنجاب کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی نظام مدت مکمل ہونے سے قبل ختم کر دیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ پنجاب کے بلدیاتی ادارے کس نے ختم کیے؟
چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بلدیاتی ادارے ختم کیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ آپ کی رائے میں کیا وزیراعلیٰ پنجاب کا بلدیاتی ادارے ختم کرنے کا اقدام قانونی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کا جواب تھا کہ میری دانست میں وزیراعلیٰ پنجاب کا بلدیاتی ادارے ختم کرنے کا اقدام غیر قانونی ہے۔
بینچ کے سربراہ نے چیف الیکشن کمشنر سے پوچھا کہ غیر قانونی اقدام پر الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کے خلاف کیا کارروائی کی؟۔ تو وہ خاموش رہے۔
قبل ازیں جمعرات کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے سے آئین اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کا مؤقف معلوم کرنے کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل اگر وزیر اعظم کے ساتھ ہیں تو انہیں بتائیں آئین زیادہ اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے جارہے، عوام کو جمہوریت سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرا کر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اور ممبران نے اپنا حلف نہیں دیکھا، کیا چیف الیکشن کمشنر نے آئین نہیں پڑھا؟

