پشاور بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات روک دی جائیں: سپریم کورٹ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے جس میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اہم منصوبے بی آر ٹی میں تاخیر سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات نیب سے کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ کا نیب سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ حقائق کے بجائے قیاس آرائی پر مبنی تھا۔ عدالت نے ایف آئی اے کو معاملے کی تفتیش سے روکنے کے حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع کر دی۔
پشاور کے بی آر ٹی منصوبے کی نیب اور ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔
عدالت کو درخواست گزار عدنان آفریدی نے بتایا کہ منصوبے سے متعلق ہمارے خدشات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ اگر آپ کے تحفظات متعلقہ حکام ختم کردیں تو کیا معاملہ حل ہو جائے گا؟
کیس کی سماعت کے دوران خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار اور جسٹس عمر عطا بندیال کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار سے پشتو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ صبر کریں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ان کو نہیں پتہ کہ سینیئر فاضل جج صاحب نے کیا کہا، لیکن جج صاحب نے جو کہا میں اس سے متفق ہوں۔
عدالت نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اضافی دستاویزات پر مشتمل جواب داخل کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ متعلقہ افسران درخواست گزاروں کے تحفظات سنیں، زندگی میں ایک بات سمجھ آئی ہے، عوامی عہدے دار محافظ ہوتے ہیں۔
وکیل نے بتایا کہ بی آر ٹی پشاور منصوبے کی تحقیقات کیلئے دیئے دونوں فیصلوں میں صرف الفاظ کا فرق ہے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ ایک فیصلے میں ایف آئی اے سے تحقیقات کا کہا گیا، دوسرے فیصلے میں نیب سے تحقیقات کا ذکر ہے۔

