چیمبرز گرائیں، غیرقانونی کام میں ملوث وکلا پریکٹس نہیں کر سکتے: ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلع کچہری اسلام آباد ایف ایٹ کے فٹبال گراؤنڈ میں وکلا کی قانونی تعمیرات اور چیمبرزگرانے کا حکم دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ غیرقانونی کاموں میں ملوث وکلا عدالت میں پیش ہونے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
منگل کو عدالت عالیہ کے چار رکنی بینچ نےقرار دیا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس کی تعمیر بغیر تاخیر کے مکمل کی جائے جبکہ وفاقی حکومت اورسی ڈی اے 23 مارچ تک ایف ایٹ فٹبال گراؤنڈ وکیلوں سے خالی کرائے۔ گراؤنڈ میں 23 مارچ کوقائداعظم کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے فٹبال ٹورنامنٹ کرایا جائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجربینچ نےایف 8 کی رہائشی شہناز بٹ کی وکلا کی جانب سے گراؤنڈ پر تجاوزات کےخلاف درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ جاری کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نےسرکاری زمین پرقائم وکلا کےچیمبرز کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ضلع کچہری سمیت عوامی مقامات اور فٹ بال گراؤنڈ سےغیر قانونی تعمیرات اوروکلا کےچیمبرز ختم کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نےقرار دیا کہ اسلام آباد بارکی جانب سے فٹ بال گراؤنڈ پرچیمبرز کی تعمیرغیر قانونی ہے، وفاقی حکومت اورسی ڈی اے 23 مارچ تک گراؤنڈ خالی کرائے، 23 مارچ کوقائداعظم کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے طلبہ کے مابین فٹ بال ٹورنامنٹ کرایاجائے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس کی تعمیربغیرتاخیرکےمکمل کی جائے۔
وفاقی حکومت 23 مارچ 2022 تک وکلاء کیلئےجوڈیشل کمپلیکس کی تعمیرکویقینی بنائے۔حکومت زمینوں پر قبضےکرانے والےسرکاری حکام کے خلاف حکومت کارروائی کرے، ہر ماہ یکم تاریخ کو ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی حکام پیشرفت رپورٹ رجسٹرار کوجمع کرائیں۔
خیال رہے کہ چند روز قبل غیر قانونی چیمبرز گرائےگئے تھے وکیلوں نےاسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔

