سیلیکٹ ہونے کی تاریخ لاہور کے ایک سیاسی خاندان کی ہے: بلاول بھٹو زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیلیکٹ ہونے کی تاریخ لاہور کے ایک اور سیاسی خاندان کی ہے ان کی نہیں۔
پیر کی شام لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں سراج الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بلاول بھٹو نے کہا کہ سیلیکٹ ہونے کا سلسلہ آج سے نہیں ہو رہا یہ بہت پہلے سے شروع ہوا۔ جہاں تک مجھ پر سیلیکٹ ہونے کا الزام لگانے کا تعلق ہے تو ہماری رگوں میں سیلیکٹ ہونے والا خون نہیں ہے، لاہور میں دوسرا سیاسی خاندان ہے جس کا یہ ماضی رہا ہے۔
مریم نواز کی ٹویٹ سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر میں نے مسلم لیگ کے نائب صدر پر کمنٹ کرنا ہوتا ہو میں اپنے نائب صدر کو کہتا کہ وہ کمنٹ کرے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سربراہ سے تاریخی ملاقات ہوئی ہے، جماعت کی تاریخ اور تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے۔
‘سب سے اہم مسئلہ معاشی بحران اور مہنگائی کا سونامی ہے جس کے لیے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے۔’
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی ہی اصلی اور آرگینک سیاسی جماعتیں ہیں جن کی جڑیں عوام میں ہیں۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی ہی پاکستان کی دو ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کی سیلیکٹ ہونے کی تاریخ نہیں رہی۔
بلاول کے مطابق لیڈر آف دی اپوزیشن اسی جماعت کا ہوتا ہے جس کے پاس اکثریت ہوتی ہے۔ تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کامیاب کرائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ موخر نہیں ہونا چاہیے، جب قوم کے سامنے یہ اعلان کیا تھا کہ 26 مارچ کو ہوگا تو کرنا چاہیے تھا۔ ‘مگر میں یہ سوال ضرور پوچھوں گا کہ یہ آئیڈیا کس کا تھا کہ لانگ مارچ سے دس دن پہلے استعفوں سے نتھی کریں۔’
بلاول نے کہا کہ کچھ دوستوں کا خیال یہ تھا کہ ضمنی الیکشن، سینیٹ اور قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا مگر وہ غلط ثابت ہوئے اور ہمارے مؤقف کی جیت ہوئی۔ ‘پی ڈی ایم کے اجلاس میں ان جماعتوں کو اپنے موقف پر نظرثانی کرنا چاہیے تھی جن کا موقف غلط ثابت ہوا۔

