متفرق خبریں

شریفاں بی بی برہنہ پریڈ کیس، فریقین نے صلح کر لی

اپریل 14, 2021

شریفاں بی بی برہنہ پریڈ کیس، فریقین نے صلح کر لی

ڈیرہ اسماعیل خان کے مشہور زمانہ شریفاں بی بی کیس میں چار سال کے بعد ثالثی جرگہ کامیاب ہو گیا اور دونوں فریقین بغل گیر ہو گئے۔

شریفاں بی بی کے بھائی نے کہا کہ اللہ کی رضا کی خاطر ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔

شریفاں بی بی کے وکیل احمد علی خان نے پاکستان 24 سے بات کرتے ہوئے صلح کی تصدیق کی۔

خیال رہے کہ راضی نامے کی بنیاد پر چند دن قبل مقامی عدالت نے نو ملزمان کو تین سال بعد رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ملزمان نے چار برس قبل شریفاں بی بی کو گاؤں کی گلیوں میں برہنہ پریڈ کرائی تھی۔

مقامی افراد کے مطابق شیخ توقیر اکرم حبیبانی سابق جنرل سیکرٹری ڈیرہ پریس کلب و ایڈیٹر روزنامہ توقیر ڈیرہ اسماعیل خان اور سردار داوڑ خان کنڈی سابق ایم این اے ٹانک وسینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) صوبہ خیبرپختونخوا نے صلح کرائی۔

گزشتہ روز ثالث سردار داوڑ خان کنڈی کے شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے دوسرے ثالث شیخ توقیر اکرم حبیبانی کے ہمراہ سردار داور خان کنڈی کے بھائی سابق ضلع ناظم ٹانک سردار مصطفی خان کنڈی جرگہ کی شکل میں 9ملزمان (شاہجہان، گلستان،رمضان، ناصر،اسلم،سید محمد عرف سیدو، ثناء اللہ،اکرام اور سجاول )اور سینکڑوں کی تعداد میں عمائدین ڈیرہ شہر اور پنجاب سے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ شریفاں بی بی کے بھائی ساجد خان اور چچا حاکم خان کے حجرے پر ایک بیل سمیت پہنچے جہاں پر ثالث شیخ توقیر اکرم حبیبانی نے کہا کہ جو واقعہ گرہ مٹ میں کئی سال پہلے پیش آیاتھا وہ انتہائی شرمناک واقعہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کا ذکر قومی و بین الاقوامی سطح پر میڈیا اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے ہوتا رہا۔ اس کا ازالہ کرنے ڈیرہ ٹانک اور پنجاب سے تمام بھائی چل کر آئے ہیں اور نو ملزمان بھی ساتھ ہیں ۔ ہم تمام لوگ ملزمان کی طرف سے حاجی حاکم اور ساجد خان سے معافی طلب کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے جرگہ(میلہ) اور بیل کو قبول کیا جائے اور معافی دی جائے۔

شیخ توقیر اکرم نے کہا کہ آج ماہ رمضان کی پہلی رات ہے لیکن اس فیصلے کی وجہ سے گرہ مٹ کے لوگوں اور بچوں کے چہروں پر عید کا سماں اور خوشیاں ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم شریفاں بی بی کے وکیل سابق جسٹس پشاورہائی کورٹ احمد علی خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور معروف قانون دان غلام محمد سپل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے بھی مشکور ہیں کہ انہوں نے اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان کے ساتھ ساتھ سردار داور خان کنڈی ، سابق ایم این اے ٹانک کا بھی میں تہہ دل سے مشکورہوں کہ انہوں نے بھی ثالثی جرگہ میں اپنا کردار کھل کر ادا کیا اور آج ہم فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماسٹر ہدایت اللہ استرانہ، معروف سرائیکی لیڈرسیف اللہ بیقرار، ملک سوہنا خان اور دیگر کا بھی میں مشکور ہوں کہ انہوں نے اس فیصلے میں اپنی اپنی توانائیاں سرف کیں۔ اس کے بعد سیف اللہ بیقرار نے واقعہ پر روشنی ڈالی اور فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔ ماسٹر ہدایت اللہ استرانہ نے بھی حاجی حاکم خان اور ساجد خان سے ہمدردی کرتے ہوئے ملزمان کو معاف کرنے پر انہیں سلام پیش کیا۔ ملزمان کے وکیل معروف قانون غلام محمد سپل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم حاکم خان ،ساجد خان کے مشکور ہیں کہ انہو ںنے ملزمان کو درگزر کر دیا اور معاف کر دیا انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ ساتھ میرے دوست وکیل سابق جسٹس پشاور ہائی کورٹ احمد علی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے میں اہم کردارا دا کیا جس کی بدولت آج دونوں فریقین ایک ہونے جا رہے ہیں۔ سردا ر مصطفی خان کنڈی سابق ضلع ناظم ٹانک نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تھا تو میں بھی بذات خود اظہار ہمدردی کے لئے ساجد خان لوگوں کے پاس آیا تھا لیکن اس مسئلہ میں میرے بڑے بھائی سردار داور خان کنڈی نے خصوصی دلچسپی لی ہوئی تھی اور شریفاں بی بی اور ان کے گھر والوں کے ساتھ مکمل رابطے میں تھے۔ ہر قسم کا تعاون کرتے رہے ۔ جب ملزمان کی جانب سے فیصلے کیلئے رابطہ کیا گیا تو سردار داور خان کنڈی نے دو مسلمانوں کو آپس میں جوڑنے کیلئے جو کردار ادا کیا وہ گرہ مٹ کی عوام کے سامنے ہے ۔

آخر میں فریق اول کی جانب سے سجاول خان نے تمام جرگہ کی موجودگی میں اپنے تمام 9لوگوں کی جانب سے معافی طلب کی جبکہ فریق دو ئم کی جانب سے حاکم خان نے تمام جرگہ کو عزت دیتے ہوئے ملزمان کو اللہ کی رضا کیلئے معافی دینے کا اعلان کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے