ہائیکورٹ کا فیصلہ، کیا سندھ میں جوڈیشل مارشل لا آ چکا؟
ابراھیم کنبھر . صحافی
روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ ذوالفقار علی بھٹو نے دے کر یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ دیس باسیوں کے بنیادی حقوق ریاست کی ذمہ داری ہے.بھٹو کا نعرہ تو لگ گیا لیکن عوام آج بھی روٹی، کپڑے اور مکان کے لیے ترس رہے ہیں.
نہ ہمارا ملک ریاست بن سکا نہ ہی عوام کو بنیادی حقوق مل سکے. بنیادی حقوق مانگنے اب بھی شہریوں کو احتجاج کےلیے سڑکوں پر نکلنا پڑتاہے۔ ایک حکومت دوسری حکومت کے کاموں کو بند کردیتی ہے، لوگوں کو ملا روزگار چھین لیتی ہے،منصوبے ٹھپ کردیتی ہے، پالیسیاں تبدیل کردیتی ہے۔ اس ملک کو پہلے دن سے جس طرح لیبارٹری بنایا گیا وہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے حال ہی میں ایک ایسا فیصلہ دیا ہے جس کے تحت ہزاروں برسر روزگار نوجواںوں سے روزگار چھین لیا جائے گا. عدالتی فرمان جاری ہوچکا ہے اب انتظامی آرڈر یعنی اس پر عمل ہونا باقی ہے۔عدالت نے ایسا فیصلہ دیا ہے جسے سندھ میں جوڈیشل مارشل لا سے تشبیہہ دی جا رہی ہے۔
یہ ہائیکورٹ کا ڈویژن بینچ تھا جس نے ایک صدی سے زائد عرصے سے قائم سندھ پبلک سروس کمیشن کو ختم کردیا ہے،پہلے اس ادارے کے افسران کو معطل کیا، ادارے کو غیر فعال کرکے اس پر تالے لگوائے گئےمگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کےمصداق مقدمہ جوں جوں آگے چلا کمیشن کی مشکلات بڑھتی گئیں، آخر میں عدالت نےکمیشن ہی ختم کرنے کا فیصلہ دے دیا.کمیشن جس قانون کے تحت کام کر رہا تھا اس قانون کو آئین سے متصادم قرار دے دیا گیا، اور دو ہزار سے زائد کمیشن سے پاس افسران، ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز کو گھر بھیج دیا گیا۔
عدالتی فیصلہ سر آنکھوں پر. مگر جس فیصلے کا مطالبہ کامران خان جیسا بندہ کیمرے کے سامنے کئی دن پہلے کردے، خواجہ اظہار الحسن جیسا سیاستدان عدالتی فیصلے سے پہلے ہی نتیجے کا بتا دے تو پھر اس پر سوال اٹھتے ہیں.
فیصلے میں ایک فریق کو سنے بغیر ہی ان کے حقوق متاثر ہوئے ہیں، متاثرین کو صفائی کا موقع ہی نہیں دیا گیا، بغیر نوٹس کے انہیں دفتر سے گھر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے.قانونی ماہرین اس فیصلے کو آئین سے متصادم قرار دے رہے ہیں، متاثرین کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور حکومت سندھ نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستانی عدالتوں کے کئی غیر مقبول فیصلےایسے ہیں جن کو تاریخ نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، وہ فیصلے غیرمقبول یا متعصانہ اس لیے کہلائے جاتے ہیں کہ وہ اندھے انصاف کے تقاضوں پر پورے نہیں اترتے،بلکہ ان فیصلوں کے ذریعے قانون کو اندھا کرکے رکھ دیا گیا۔ واضح رہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے، قانون دیکھتا ہے اور انصاف کرنے والے ججوں کی آنکھیں بھی پرنور ہوتی ہیں. رہی بات ہماری معزز عدالتوں کے ماضی یا حال کے کردار کی تو وہ کردار اتنا شاندار کبھی نہیں رہا جو یہ کہا جائے کہ تمام فیصلے آئین،انصاف اور قانونی تقاضوں پر پورے اترتے ہیں۔
اگر پاکستانی عدالتوں، غیرجمہوری قوتوں اور غیر مرئی ہاتھوں کے ملی بھگت اور گٹھ جوڑ کی بات کی جائے تو بات دور تک چلی جاے گی۔ لیکن ہم سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر آتے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کے گھروں کے چولھےٹھنڈے پڑنے کو ہیں۔سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں کہ دو ہزار ڈاکٹروں کو گھر بھیج دیا گیا ہے. اس کے ساتھ 2018 کے مقابلے کے امتحانات میں کامیاب سیکڑوں افسران کو بھی برطرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے.
موجودہ حکومت کا ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا جھانسہ ہم نے دیکھ لیا .روزگار دینا تو دور کی بات حکومت وقت نے لاکھوں لوگوں کو بیروزگار کیا، اب سمجھ میں آیا کہ عوام کو بے روزگار کرنے کا ٹھیکہ صرف تحریک انصاف کی حکومت نے ہی نہیں لیا .
ایک طرف حکومت ہے جس نے انصاف کے نام پر انتقام لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی،دوسری طرف ہماری نہایت قابل احترام عدلیہ۔ سپریم کورٹ نے تین ہفتے پہلے ایف آئی اے سے پچاس سے زائد افسران اور ملازمین کو نکالنے کا فرمان جاری کیا جن کا تقرر ضیاالحق کے مارشلائی زمانے کے خاتمے کے فوری بعد ہوا، 32 سال سے کام کرنے والے ملازمین کو بھی بیک جنبش قلم سے گھر بھیج دیا گیا۔
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت سندھ یا سندھ پبلک سروس کمیشن میں سب اچھا ہےیا میرٹ کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا،لیکن اس ملک میں پرچی کہاں نہیں چلتی؟جب وزیر مشیر پرچیوں پر لگتے ہوں، ججوں کا تقرر بھی شفاف انداز سے نہ ہوتا ہو، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا بڑا سکینڈل سامنے آ چکا ہے، پنجاب پبلک سروس کمیشن کے پرچے آوٹ ہونے کا سکینڈل ابھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا، نیب بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا سارا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیا تھا لیکن وہاں کمیشن جیسے اداروں کو عدالتوں نے تالے نہیں لگوائے،نہ ہی قوانین کو معطل کیا پھر سندھ میں سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟
یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں مانگا کچھ اور گیا اور عدالت نے وہ کچھ دے دیا جو کسی نے نہیں چاہا۔یہ ہمارے ملک میں ہوتا ہے،سپریم کورٹ کا مشہور زمانہ مقدمہ سید ظفر علی شاہ کیس دیکھ لیں، جس میں درخواست گزارنے پرویز مشرف کے اکتوبر 1999 کے غیر آئینی اقدامات کو چیلنج کیا اور عدالت سے انصاف کی استدعا کی، عدالت عظمیٰ کے سربراہ چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے جمہوریت کو ختم کرنے کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے ملک کے فوجی آمر پرویز مشرف کو آئین میں ترامیم کے اختیارات دے دیے.
عدالتی احکامات کی کوکھ سے ایل ایف او نے جنم لیا جس سے پھر سترہویں ترمیم پاس ہوئی، جس پر پہلے پارلیمنٹ اورپھر عدلیہ نے ٹھپہ لگا دیا، جسٹس انوارالحق نے بھی ایسا ہی کچھ کیا، ایسا ہی دوسرا مقدمہ این آر او کے حوالے سے تھا، یہاں درخواست گزار، چیف جسٹس اور تمام کردار بدلے ہوئے تھے لیکن درخواست گزاروں کو سپریم کورٹ نے وہ دے دیا جو انہوں نے مانگا ہی نہیں تھا، چیف جسٹس افتخار چوھدری نے پتا نہیں کس خلائی مخلوق کے کہنے پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف کمر کس لی اور ملک کے وزیراعظم کو حکم دے دیا کہ سوئس حکومت کو خط لکھا جائے کہ وہ پاکستان کے صدر کے خلاف تمام مقدمات کھول دے۔ یوسف رضا گیلانی نے جب عدالتی حکم کے ذریعے بازو مروڑنے کی مزاحمت کی تو افتخار چوھدری نے اسے نااہل کروا کر گھر بجھوادیا۔
تمیز الدین کیس سے لے کر قاضی فائز عیسیٰ کیس تک اگر عدالتیں اپنی خودمختاری، آزادی، آئین ،قانون اور انصاف کو مقدم رکھتیں تو ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔شاید ہم کافی آگے نکل چکے ہوتے، دنیا میں ہماری پہچان شاید سروسز مہیا کرنے والے ملک کی نہ ہوتی .
واپس آتے ہیں ہائیکورٹ کے فیصلے کی طرف، انصاف کے عالمی اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے دنیا کی کوئی عدالت یک طرفہ فیصلہ نہیں دے سکتی،جس طرح صحافت میں خبر دینے کے لیے دوسرے فریق کا موقف لینا ضروری سمجھا جاتا ہے اسی طرح انصاف کے تقاضے پورے کرتے وقت بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا ہی نہیں جا سکتا جو لوگ فریق ہی نہ ہوں.
ہائیکورٹ نے ان لوگوں کو برطرف کرنے کا فیصلہ سنایا جن کا موقف سننا تو دور کی بات ان کو نوٹس تک نہیں کیا گیا، نہ ان کی طرف سے کوئی وکیل پیش ہوا. یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا درخواست گزاروں کی استدعا ان لوگوں کو برطرف کرنے کی تھی؟
پبلک سروس کمیشن کی طرف سے سیکریٹری اور کمیشن کے چئرمین، ان کے وکلا پیش ہوئے، رکارڈ لایا گیا، جوابات جمع کروائے گئے، اس میں کچھ تو ہوگا،کمیشن والوں نے بھی کچھ تو موقف اختیار کیا ہوگا فیصلے میں کمیشن کے موقف کا ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا۔ اب تو پبلک سروس کمیشن کے سیکریٹری کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے وہ تمام رکارڈ عدالت کو دکھایا جو سیکرٹرکارڈ ہوتا ہے،اس کے باوجود فیصلے میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات برائے 2013 پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ایک فیصلہ دیا اس میں بھی سپریم کورٹ نے ہزاروں اہل نوجوانوں کی محنت رائیگاں کردی، لیکن جسٹس امیر ہانی مسلم نے ایک جج کی حیثیت سےفیصلہ لکھا اور فیصلہ دینے کے تمام پہلو نظر میں رکھے۔
فیصلہ لکھتے وقت عدالت قانون پر عمل کی پابند ہے،پھر اہم بات یہ کہ ہائیکورٹ نے صوبائی اسمبلی کے منظور شدہ قانون کو معطل کردیا ہے، کسی عدالت کو عوام کے منتخب اداروں یعنی پارلیمنٹ کا منظور شدہ قانون معطل کرنے کا اختیار تب تک نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ قانون آئین سے مکمل متصادم ہے۔
عدالتیں قانون اور آئین کی تشریح کرتی ہیں ان کا کام قوانین میں ترمیم کرنا، قوانین بنانا یا اڑانا نہیں، آئین پاکستان نے تمام اداروں کے لیے دائرہ اختیار کی ایک لکیر کھینچ رکھی ہے،ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنے کا پابند بنایا گیا ہے، جس کا جو کام ہے اس کو وہ کرنا چاہیے، ملک میں خرابی کا سب سے بڑا سبب یہ ہی ہے کہ ہر ادارہ، دوسرے ادارے کے کام میں ٹانگ اڑاتا رہا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن ایکٹ 1989 کو ہی آئین سے متصادم قرار دے کر معطل کردیا ہے،بتیس سال پرانے قانون کو معطل کرنے کا مطلب یہ کہ ضیاالحق کے دور کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن نے جتنی بھی ملازمتیں دی ہیں ان کی قانونی حیثیت کوئی نہیں،پھراس کمیشن کے ذریعے جتنی سفارشات آئیں اور بھرتیاں ہوئیں ان سب پر بڑا سوالیہ نشان چھوڑ دیا گیا ہے، اس سوالیہ نشان سے کیا اثرات پڑیں گے۔
اگر ہائیکورٹ کی منشا یہ ہے کہ 90 کی دہائی کے بعد سندھ میں پبلک سروس کمیشن کی سفارشات پر بھرتی افسران کو نکال دیا جائے تو پھر انتظامی بحران پیدا ہوگا، اگر انتظامی معاملات میں مداخلت والے ایسے ہی فیصلے آتے رہے تو پھر لوگوں کو جوڈیشل مارشل لا لگ جانے کی باتوں سے کون روک سکتا ہے؟
ضروری یہ ہے کہ عدالتیں ان لاکھوں سائلین کا سوچیں جو انصاف کے متلاشی اور منتظر ہیں، سیاسی نوعیت کے معاملات پر فیصلوں سے عدلیہ کا قد نہیں بڑھے گا، بلکہ مزید رسوائی ہوگی۔
ماضی میں مارشل لاز اور مارشلائی مائنڈ سیٹ کا اثر قبول کرکے ان کے ایما پر فیصلے دے کر عدلیہ نے جتنا نام کمایا ہے کیا وہ کافی نہیں؟

