کابل ایئر پورٹ پر دھماکوں میں امریکی فوجیوں سمیت 70 ہلاک
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئر پورٹ پر دو دھماکوں میں 70 افراد ہلاک ہوئے جن میں 12 امریکی فوجی ہیں.
امریکی صدر جو بائیڈن نے دھماکوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے.
طالبان کے ایک عہدیدار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ اور 140 شہری زخمی ہیں.
قبل ازیں امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے دھماکوں کی تصدیق کی .
پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی کا کہنا تھا کہ ’ہم اس امر کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ایبے گیٹ پر ہونے والے دھماکے میں امریکیوں اور دوسرے عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دوسرا دھماکہ بیرن ہوٹل کے قریب ہوا جو کہ ایبے گیٹ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔
روئٹرز نے طالبان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
کابل میں طالبان کے ایک اور ترجمان قاری محمد یوسف کے مطابق دھماکے کابل ایئرپورٹ کے اس حصے میں ہوئے جو کہ امریکی افواج کے زیر کنٹرول ہے۔ قاری محمد یوسف کا کہنا تھا کہ دو سے تین دھماکے ہوئے۔
دو امریکی اہلکاروں نے روئٹرز کو بتایا کہ دھماکوں میں سے ایک خود کش تھا۔
روئٹرز نے ایک اور امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ زخمیوں میں تین امریکی فوجی بھی شامل ہے جس میں سے ایک شدید زخمی ہے۔

