پاکستان

توشہ خانہ کیس میں وزیراعظم کا دفاع ریاستی وکیل کریں گے

نومبر 11, 2021

توشہ خانہ کیس میں وزیراعظم کا دفاع ریاستی وکیل کریں گے

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے دوست ممالک سے ملنے والے ریاستی تحائف کے توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم آبزرویشن دی ہے۔

جمعرات کو توشہ خانہ کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔

وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ اٹارنی جنرل خود اس کیس میں دلائل دیں گے، وقت دیا جائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اس طرح وقت لیتے لیتے یہ کیس ختم نہ ہو جائے۔ جسٹس میاں گل نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ کیا سامان بک جائے گا۔

جسٹس میاں گُل نے کہا کک اگر مجھے شیلڈ ملتی ہے تو اپنے ٹی روم میں لگاؤں گا، سوات نہیں لے جاؤں گا، صرف وزیراعظم ہی کیوں، وفاقی وزرا اور بیوروکریسی کو بھی دیکھنا چاہیے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون سب کے لیے ہیں۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ جو چیزیں لوگ گھر لے کر گئے ان سے واپس لیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدالت احکامات جاری کرتی ہے تو ہم عمل درآمد کریں گے۔

جسٹس میاں گُل نے پوچھا کہ کیوں، آپ کو کس نے روکا ہے خود عمل درآمد سے؟ ایک ایرانی قالین ہماری نیشنل آرٹ گیلری میں ڈسپلے نہ ہو؟ جو چیزیں پبلک نہیں کرنا چاہتے وہ بے شک نہ کریں۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ اگر یہ پراسسز شروع ہوجائے تحائف منظرعام پر آئے تو لوگ خوش ہوں گے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 8 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے