پاکستان

واوڈا کی نااہلی کیس کا فیصلہ 60 دن میں کیا جائے: ہائیکورٹ

نومبر 12, 2021

واوڈا کی نااہلی کیس کا فیصلہ 60 دن میں کیا جائے: ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹر فیصل واوڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کا 60 دن میں فیصلہ کرنے کے لیے کہا ہے.

ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جمعے کو پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن میں نااہلی کیس پر سماعت رکوانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے جمعرات کو اپنے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کے کیس میں الیکشن کمیشن کی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

اپنی درخواست میں فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کا 12 اکتوبر کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کامیابی کے 60 روز میں اہلیت کا فیصلہ کرسکتا ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کی کارروائی روک کر میرے خلاف فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ 60 روز میں فیصل واوڈا کے خلاف درخواست آچکی تھی، اس لیے اب وہ الیکشن کمیشن میں اپنی بے گناہی ثابت کریں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کے ہاتھ صاف ہیں تو الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے دیں۔‘
انہوں نے فیصل واوڈا کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو الیکشن کمیشن کی کارروائی سے کیا ڈر ہے؟
آپ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کے خلاف شہری دوست علی اور دیگر کی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کاغذات میں اپنی امریکی شہریت چھپائی اور جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے کے بعد شہریت چھوڑی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے